Tafsir As-Saadi
9:17 - 9:18

نہیں ہے لائق واسطے مشرکین کے یہ کہ آباد کریں وہ مسجدیں اللہ کی جبکہ وہ شہادت دینے والے ہیں اپنے نفسوں پر کفر کی، یہی لوگ ہیں کہ برباد ہوگئے عمل ان کے اورآگ ہی میں وہ ہمیشہ رہیں گے(17)یقینا صرف وہی آباد کرتا ہے مسجدیں اللہ کی جو ایمان لایا اللہ پر اور یوم آخرت پر اور قائم کی اس نے نماز اور ادا کی زکاۃ اور نہیں ڈرا وہ مگر اللہ ہی سے، سوامید ہے کہ وہی ہوں گے ہدایت یافتہ لوگوں میں سے(18)

[17] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ مَا كَانَ لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ۠ ﴾ ’’مشرکوں کو زیبا نہیں ۔‘‘ یعنی مشرکین کے لائق اور ان کے لیے مناسب نہیں ۔ ﴿ اَنۡ يَّعۡمُرُوۡا مَسٰجِدَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ آباد کریں وہ اللہ کی مسجدوں کو‘‘ یعنی عبادات، نماز اور مختلف انواع کی نیکیوں کے ذریعے سے اللہ کی مساجد کو آباد کریں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ اپنی فطرت اور شہادت حال کے ذریعے سے اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگوں کی بابت علم ہے کہ وہ کفر اور باطل پر ہیں ۔ ﴿شٰهِدِيۡنَ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ بِالۡكُفۡرِ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے آپ پر کفر (اور عدم ایمان) کی گواہی دیتے ہیں ۔‘‘ ایمان اعمال کی قبولیت کی شرط ہے تب وہ کیوں کر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرتے ہیں ۔ حالانکہ ان کے اعمال کی بنیاد ہی مفقود ہے اور ان کے اعمال باطل ہیں ۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ١ۖۚ وَفِي النَّارِ هُمۡ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں ، ان کے اعمال برباد ہو گئے اور وہ آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
[18] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اللہ کی مسجدوں کو تو وہی آباد کرتا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور قائم کیا نماز کو‘‘ یعنی وہ فرض اور مستحب نمازوں کو ظاہری اور باطنی طور پر قائم کرتا ہے ﴿ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ﴾ اور مستحق لوگوں کو زکاۃ ادا کرتا ہے ﴿ وَلَمۡ يَخۡشَ اِلَّا اللّٰهَ ﴾ ’’اور نہیں ڈرا سوائے اللہ کے‘‘ یعنی اس نے اپنی خشیت کو صرف اللہ تعالیٰ پر مرکوز کر رکھا ہے، ان امور کو اپنے آپ سے دور رکھتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق واجبہ کی ادائیگی میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنوں کو ایمان نافع اور اعمال صالحہ کے بجا لانے سے متصف کیا ہے۔ ان اعمال صالحہ کی اساس نماز اور زکاۃ ہے نیز ان کو خشیت الٰہی سے موصوف کیا ہے جو ہر بھلائی کی بنیاد ہے.... درحقیقت یہی وہ لوگ ہیں جو مساجد کو آباد کرتے ہیں اور یہی ان کے اہل ہیں ۔ ﴿ فَعَسٰۤى اُولٰٓىِٕكَ اَنۡ يَّكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’پس امید ہے کہ یہ لوگ ہوں ہدایت والوں میں ‘‘ لفظ (عَسٰی) اللہ تعالیٰ کی طرف سے وجوب کے معنی میں آتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ، نہ اللہ سے ڈرتے ہیں تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرنے والے نہیں اور نہ ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ان کے اہل ہیں ۔ اگرچہ وہ اس کا دعویٰ کرتے ہیں ۔