یقینا آگیا ہے تمھارے پاس ایک عظیم رسول تم میں سے، شاق (گراں ) ہے اس پر تمھارا تکلیف میں مبتلا ہونا، حریص ہے اوپر (بھلائی) تمھاری کے، ساتھ مومنوں کے نہایت شفیق و مہربان ہے (128) پھر بھی اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دیجیے! کافی ہے مجھے اللہ، نہیں ہے کوئی معبود (برحق) مگر وہی، اسی پر بھروسہ کیا میں نے اوروہی ہے رب عرش عظیم کا (129)
[128] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے ان کے اندر نبی اُمیﷺ کو مبعوث فرمایا جو خود ان میں سے ہیں وہ آپ کا حال جانتے ہیں ، وہ آپ سے اخذ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور آپ کی اطاعت کرنے کو ناپسند نہیں کرتے اور خود رسول اللہﷺ ان کے بے انتہا خیر خواہ اور ان کے مصالح کے لیے کوشش کرنے والے ہیں ۔ ﴿ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ ﴾ ’’تمھاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے۔‘‘ یعنی آپﷺ پر ہر وہ معاملہ بہت شاق گزرتا ہے جو تم پر شاق گزرتا ہے اور تمھیں تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔ ﴿ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’حریص ہیں تمھاری بھلائی پر‘‘ پس آپﷺ تمھارے لیے بھلائی پسند کرتے ہیں اور تمھیں بھلائی تک پہنچانے کے لیے بھرپور کوشش کرتے ہیں ، ایمان تک تمھاری راہ نمائی کے خواہش مند ہیں ۔ آپ شر کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور شر سے تمھیں نفرت دلانے کے لیے پوری کوشش صرف کرتے ہیں ﴿ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے مہربان ہیں ۔‘‘ یعنی اہل ایمان کے لیے انتہائی رافت و رحمت کے حامل ہیں بلکہ وہ مومنوں کے لیے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر رحیم ہیں ۔ بنابریں آپ کا حق تمام مخلوق پر فائق اور مقدم ہے۔ آپﷺ پر ایمان لانا، آپ کی تعظیم کرنا، آپ کی عزت و توقیر کرنا تمام امت پر فرض ہے۔
[129]﴿فَاِنۡ﴾ ’’پس اگر‘‘ وہ ایمان لے آئیں تو یہ ان کی خوش نصیبی اور توفیق الٰہی ہے۔ اور اگر وہ ﴿ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پھرجائیں ۔‘‘ یعنی ایمان و عمل سے روگردانی کریں تو آپﷺ اپنے راستے پر گامزن رہیں اور ان کو دعوت دیتے رہیں ۔ ﴿ فَقُلۡ حَسۡبِيَ اللّٰهُ﴾ ’’اور کہہ دیں ! کہ (تمام امور میں ) میرے لیے اللہ کافی ہے۔‘‘ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ ﴾ ’’میں نے اسی پر توکل کیا۔‘‘ یعنی امور نافعہ کے حصول اور ضرر رساں امور کو دور ہٹانے کے لیے، میں اسی پر اعتماد اور بھروسہ کرتا ہوں ﴿ وَهُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ اس عظیم عرش کا رب ہے جو تمام مخلوقات پر سایہ عرش سے کم تر مخلوق کا رب ہونا اولیٰ اور احریٰ ہے۔