Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Fil — Ayah 4

105:4
تَرۡمِيهِم بِحِجَارَةٖ مِّن سِجِّيلٖ ٤
پھینکتے تھے اُن پر پتھریاں کنکر کی1
Footnotes
  • [1] اصحابِ فیل کا واقعہ:"اصحاب فیل" کا قصہ مختصر یہ ہے کہ بادشاہ "حبشہ کی طرف سے "یمن" میں ایک حاکم "ابرہہ" نامی تھا اس نے دیکھا کہ سارے عرب کعبہ کا حج کرنے جاتے ہیں، چاہا کہ ہمارے پاس جمع ہوا کریں۔ اس کی تدبیر یہ سوچی کہ اپنے مذہب عیسائی کے نام پر ایک عالیشان گرجا بنایا جائے جس میں ہر طرح کے تکلفات اور راحت و دل کشی کے سامان ہوں۔ اس طرح لوگ اصلی اور سادہ کعبہ کو چھوڑ کر اس مکلّف و مرصّع کعبہ کی طرف آنے لگیں گے۔ اور مکہ کا حج چھوٹ جائے گا۔ چنانچہ "صنعاء" میں جو یمن کا بڑا شہر ہے، اپنے مصنوعی کعبہ کی بنیاد رکھی اور خوب دل کھول کر روپیہ خرچ کیا۔ اس پر بھی لوگ ادھر متوجہ نہ ہوئے۔ عرب کو خصوصًا قریش کو جب اس کی اطلاع ہوئی، سخت خشمگیں ہوئے کسی نے غصہ میں آکر وہاں پائخانہ بھر دیا، اور بعض کہتے ہیں کہ بعض عرب نے آگ جلائی تھی، ہوا سے اڑ کر اس عمارت میں لگ گئ "ابرہہ" نے جھنجھلا کر کعبہ شریف پر فوج کشی کر دی بہت سا لشکر اور ہاتھی لے کر اس ارادہ سے چلا کہ کعبہ کو منہدم کر دے۔ درمیان میں عرب کے جس قبیلہ نے مزاحمت کی اسے مارا اور مغلوب کیا۔ حضرت ﷺ کے دادا عبدالمطلب اس وقت قریش کے سردار اور کعبہ کے متولی اعظم تھے۔ ان کو خبر ہوئی تو فرمایا لوگو! اپنا بچاؤ کر لو، کعبہ جس کا گھر ہے وہ خود اس کو بچا لیگا۔ "ابرہہ" نے راستہ صاف دیکھ کر یقین کر لیا کہ اب کعبہ کا منہدم کر دینا کوئی مشکل کام نہیں۔ کیونکہ ادھر سے کوئی مقابلہ کرنیوالا نہ تھا۔ عجیب و غریب پرندے: جب "وادی محسّر" ( جو مکہ کے قریب جگہ ہے) پہنچا تو سمندر کی طرف سے سبز اور زرد رنگ کے چھوٹے چھوٹے جانوروں کی ٹکڑیاں نظر آئیں۔ ہر ایک کی چونچ اور پنجوں میں چھوٹی چھوٹی کنکریاں تھیں۔ ان عجیب و غریب پرندوں کے غول کے غول کنکریاں لشکر پر برسانے لگے۔ خدا کی قدرت سے وہ کنکر کی پتھریاں بندوق کی گولی سے زیادہ کام کرتی تھیں۔ جس کے لگتی، ایک طرف سے گھس کر دوسری طرف سے نکل جاتی، اور ایک عجیب طرح کا سمّی مادہ چھوڑ جاتی تھی۔ بہت سے وہیں ہلاک ہوگئے۔ جو بھاگے وہ دوسری بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کر مرے۔ اس واقعہ کا سال: یہ واقعہ حضور ﷺ کی ولادت شریف سے پچاس روز پہلے ہوا۔ بلکہ بعض کہتے ہیں کہ خاص اسی روز آپ ﷺ کی ولادت باکرامت ہوئی۔ گویا یہ ایک آسمانی نشان آپ ﷺ کی آمد آمد کا تھا۔ اور ایک غیبی اشارہ تھا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی فوق العادۃ حفاظت فرمائی ہے۔ اس گھر کے سب سے مقدس متولی اور سب سے بزرگ پیغمبر کی حفاظت بھی اسی طرح کرے گا۔ اور عیسائی یا کسی دوسرے مذہب کو یہ موقع نہ دے گا کہ وہ کعبہ اور کعبہ کے سچے خادموں کا استیصال کرسکیں۔