Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Kafirun — Ayah 5

109:5
وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ ٥
اور نہ تم کو پوجنا ہے اُس کا جس کو میں پوجوں1
Footnotes
  • [1] یعنی آئندہ بھی میں تمہارے معبودوں کو کبھی پوجنے والا نہیں اور نہ تم میرے معبود واحد کی بلا شرکت غیرے پرستش کرنے والے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ میں موحد ہو کر شرک نہیں کرسکتا نہ اب نہ آئندہ اور تم مشرک رہ کر موحد نہیں قرار دیے جاسکتے، نہ اب نہ آئندہ اس تقریر کے موافق آیتوں میں تکرار نہیں رہی۔(تنبیہ) اس آیت میں تکرار کی توضیح: بعض علماء نے یہاں تکرار کو تاکید پر حمل کیا ہے اور بعض نے پہلے دو جملوں میں حال و استقبال کی نفی اور اخیر کے دو جملوں میں ماضی کی نفی مراد لی ہے کما صرح بہ الزمخشری۔ اور بعض نے پہلے جملوں میں حال کا اور اخیر کے جملوں میں استقبال کا ارادہ کیا ہے۔ کمایظہر من الترجمہ۔ لیکن بعض محققین نے پہلے دو جملوں میں "ما" کو موصولہ اور دوسرے دونوں جملوں میں "ما" کو مصدریہ لے کریوں تقریر کی ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان نہ معبود میں اشتراک ہے نہ طریق عبادت میں تم بتوں کو پوجتے ہو، وہ میرے معبود نہیں، میں اس خدا کو پوجتا ہوں جس کی شان و صفت میں کوئی شریک نہ ہوسکے، ایسا خدا تمہارا معبود نہیں۔ علیٰ ہذاالقیاس تم جس طرح عبادت کرتے ہو، مثلًا ننگے ہو کر کعبہ کے گرد ناچنے لگے یا ذکر اللہ کی جگہ سیٹیاں اور تالیاں بجانے لگے، میں اس طرح کی عبادت کرنے والا نہیں اور میں جس شان سے اللہ کی عبادت بجالاتا ہوں تم کو اس کی توفیق نہیں۔ لہٰذا میرا اور تمہارا راستہ بالکل الگ الگ ہے۔ اور احقر کے خیال میں یوں آتا ہے کہ پہلےجملے کو حال و استقبال کی نفی کے لئے رکھا جائے۔ یعنی میں اب یا آئندہ تمہارے معبودوں کی پرستش نہیں کرسکتا جیسا کہ تم مجھ سے چاہتےہو۔ اوروَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمۡ کا مطلب (بقول حافط ابن تیمیہؒ) یہ لیا جائے کہ (جب میں خدا کا رسول ہوں تو، میری شان یہ نہیں اور نہ کسی وقت مجھ سے ممکن ہے (بامکان شرعی) کہ شرک کا ارتکاب کروں۔ حتّٰی کہ گزشتہ زمانہ میں نزول وحی سے پہلے بھی جب تم سب پتھروں اور درختوں کو پوج رہے تھے، میں نے کسی غیراللہ کی پرستش نہیں کی۔ پھر اب اللہ کی طرف سے نور وحی اور بینات و ہدیٰ وغیرہ آنے کے بعد کہاں ممکن ہے کہ شرکیات میں تمہارا ہمنوا ہو جاؤں۔ شاید اسی لئے یہاں وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ میں جملہ اسمیہ اور مَّا عَبَدۡتُّمۡ میں صیغہ ماضی کا عنوان اختیار فرمایا۔ رہا کفار کا حال اس کا بیان دونوں مرتبہ ایک ہی عنوان سے فرمایا وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ یعنی تم لوگ تو اپنی سوء استعداد اور انتہائی بدبختی سے اس لائق نہیں کہ کسی وقت اور کسی حال میں خدائے واحد کی بلاشرکت غیرے پرستش کرنے والے بنو۔ حتّٰی کہ عین گفتگوئے صلح کے وقت بھی شرک کا دم چھلا ساتھ لگائے رکھتے ہو۔ اور ایک جگہ مَاتَعْبُدُوْنَ بصیغہ مضارع اور دوسری جگہ مَّا عَبَدۡتُّمۡ بصیغہ ماضی لانے میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ ان کے معبود ہر روز بدلتے رہتے ہیں جو چیز عجیب سی نظر آئی یا کوئی خوبصورت سا پتھر نظر پڑا اس کو اٹھا کر معبود بنا لیا۔ اور پہلے کو رخصت کیا۔ پھر ہر موسم کا اور ہرکام کا جدا معبود ہے، ایک سفر کا، ایک حضر کا، کوئی روٹی دینے والا، کوئی اولاد دینے والا، وقس علٰی ہذا۔ حافظ شمس الدین ابن قیمؒ نے بدائع الفوائد میں اس سورت کے لطائف و مزا یا پر بہت نفیس کلام کیا ہے جس کو معارف قرآنی کا شوق ہو۔ اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیئے۔