Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Masad — Ayah 1

111:1
تَبَّتۡ يَدَآ أَبِي لَهَبٖ وَتَبَّ ١
ٹوٹ گئے ہاتھ ابی لہب کے اور ٹوٹ گیا وہ آپ1
Footnotes
  • [1] ابولہب کی بدبختی:" ابولہب" (جس کا نام عبدالعزی بن عبدالمطلب ہے آنحضرت ﷺ کا حقیقی چچا تھا، لیکن اپنے کفروشقاوت کی وجہ سے حضور ﷺ کا شدید ترین دشمن تھا۔ جب آپ ﷺ کسی مجمع میں پیغام حق سناتے یہ بدبخت پتھر پھینکتا حتّٰی کہ آپ کے پائے مبارک لہولہان ہو جاتے اور زبان سے کہتا کہ لوگو! اس کی بات مت سنو، یہ شخص (معاذاللہ) جھوٹا بےدین ہے۔ کبھی کہتا کہ محمد ہم سے ان چیزوں کا وعدہ کرتے ہیں جو مرنے کے بعد ملیں گی۔ ہم کو تو وہ چیزیں ہوتی نظر نہیں آتیں۔ پھر دونوں ہاتھوں سے خطاب کر کے کہتا تبالکما ما اری فیکما شیًٔا مما یقول محمد (ﷺ) تم دونوں ٹوٹ جاؤ کہ میں تمہارے اندر اس میں سے کوئی چیز نہیں دیکھتا جو محمد (ﷺ) بیان کرتا ہے۔ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے کوہ "صفا" پر چڑھ کر سب کو پکارا۔ آپ ﷺ کی آواز پر تمام لوگ جمع ہو گئے۔ آپ ﷺ نے نہایت مؤثر پیرایہ میں اسلام کی دعوت دی۔ ابولہب کی گستاخیاں: ابولہب بھی موجود تھا (بعض روایات میں ہے کہ ہاتھ جھٹک کر) کہنے لگا تبًّالک سائر الیوم الھٰذاجمعتنا یعنی تو برباد ہو جائے کیا ہم کو اسی بات کے لئے جمع کیا تھا) اور "روح المعانی" میں بعض سے نقل کیا ہے کہ اس نے ہاتھوں میں پتھر اٹھایا کہ آپ ﷺ کی طرف پھینکے۔ غرض اس کی شقاوت اور حق سے عداوت انتہاء کو پہنچ چکی تھی، اس پر جب اللہ کے عذاب سے ڈرایا جاتا تو کہتا کہ اگر سچ مچ یہ بات ہونے والی ہے تو میرے پاس مال و اولاد بہت ہے۔ ان سب کو فدیہ میں دے کر عذاب سے چھوٹ جاؤنگا۔ ابولہب کی بیوی: اس کی بیوی ام جمیل کو بھی پیغمبر ﷺ سے بہت ضد تھی۔ جو دشمنی کی آگ ابولہب بھڑکاتا تھا، یہ عورت گویا لکڑیاں ڈال کر اس کو اور زیادہ تیز کرتی تھی۔ سورۃ ہذا میں دونوں کا انجام بتلا کر متنبہ کیا ہے کہ مرد ہو یا عورت، اپنا ہو یا بیگانہ، بڑا ہو یا چھوٹا، جو حق کی عداوت پر کمر باندھے گا وہ آخر کار ذلیل اور تباہ و برباد ہو کر رہیگا۔ پیغمبر کی قربت قریبہ بھی اس کو تباہی سے نہ بچا سکے گی۔ یہ ابولہب کیا ہاتھ جھٹک باتیں بناتا اور اپنی قوت بازو پر مغرور ہو کر خدا کے مقدس و معصوم رسول ﷺ کی طرف دست درازی کرتا ہے سمجھ لے کہ اب اس کے ہاتھ ٹوٹ چکے۔ اس کی سب کوششیں حق کے دبانے کی برباد ہو چکیں۔ اس کی سرداری ہمیشہ کے لئے مٹ گئ۔ اس کے اعمال اکارت ہوئے، اس کا زور ٹوٹ گیا، اور وہ خود تباہی کے گڑھے میں پہنچ چکا۔ یہ سورت مکی ہے کہتے ہیں کہ غزوہ "بدر" سے سات روز بعد اس کے زہریلی قسم کا ایک دانہ نکلا۔ اور مرض لگ جانے کے خوف سے سب گھر والوں نے الگ ڈال دیا، وہیں مرگیا اور تین روز تک لاش یوں ہی پڑی رہی۔ کسی نے نہ اٹھائی، جب سڑنے لگی، اس وقت حبشی مزدوروں سے اٹھوا کر دبوائی۔ انہوں نے ایک گڑھا کھود کر اس کو ایک لکڑی سے اندر ڈھلکا دیا اوپر سے پتھر بھر دیے۔ یہ تو دنیا کی رسوائی اور بربادی تھی وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَکۡبَرُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ (الزمر۔۲۶)۔