Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah An-Nas — Ayah 6

114:6
مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ ٦
جنوں میں اور آدمیوں میں1
Footnotes
  • [1] جنّوں اور آدمیوں کے شیطان:شیطان جنوں میں بھی ہیں اور آدمیوں میں بھی وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیۡنَ الۡاِنۡسِ وَ الۡجِنِّ یُوۡحِیۡ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ زُخۡرُفَ الۡقَوۡلِ غُرُوۡرًا (انعام۔۱۱۲) اللہ تعالیٰ دونوں سے پناہ میں رکھے (تکملہ) ان دونوں سورتوں کی تفسیر میں علماء و حکماء نے بہت کچھ نکتہ آفرینیاں کی ہیں۔ حافظ ابن قیمؒ، امام رازیؒ، ابن سیناؒ، حضرت شاہ عبدالعزیزؒ محدث دہلوی کے بیانات درج کرنے کی یہاں گنجائش نہیں صرف استاذالاستاذ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس اللہ روحہ کی تقریر کا خلاصہ درج کرتا ہوں تا فوائد قرآن کے حسن خاتمہ کے لئے ایک فال نیک ثابت ہو:۔ ان دونوں سورتوں کی تفسیر قاسمی: یہ ایک فطری اور عام دستور ہے کہ باغ میں جب کوئی نیا پودا زمین کو شق کرتا ہوا تخم سے باہر نکل آتا ہے تو باغبان (یا مالی) اس کے تحفظ میں پوری کوشش اور ہمت صرف کر دیتا ہے اور جب تک وہ جملہ آفات ارضی و سماوی سے محفوظ ہو کر اپنے حد کمال کو نہیں پہنچ جاتا اس وقت تک بہت زیادہ تردد اور عرق ریزی کرنا پڑتی ہے اب غور کرنا چاہیئے کہ پودے کی زندگی کو فنا کر دینے والی یا اس کے ثمرات کے تمتع سے مالک کو محروم بنا دینے والی وہ کون کون سی آفات ہیں جن کے شر اور مضرت سے بچا لینے میں باغبان کو اپنی مساعی کے کامیاب بنانے کی ہر وقت دھن لگی رہتی ہے۔ ادنیٰ تامل سے معلوم ہو جائے گا۔ کہ ایسی آفات اکثر چار طرح سے ظہور پذیر ہوتی ہیں جن کے انسداد کے لئے باغبان کو چار امور کی اشد ضرورت ہے (اوّل) ایسے سبزہ خور جانوروں کے دندان و دہن کو اس پودے تک پہنچنے سے روکا جائے جن کی جبلت اور خلقت میں سبزہ و غیرہ کا کھانا داخل ہے (دوسرے) کنویں یا نہر یا بارش کا پانی اور ہوا اور حرارت آفتاب (غرضیکہ تمام اسباب زندگی و ترقی) کے پہنچنے کا پورا انتظام ہو۔ (تیسرے) اوپر سے برف اولہ وغیرہ جو اس کی حرارت عزیزیہ کے احتقان کا باعث ہو، اس پر گرنے نہ پائے۔ کیونکہ یہ چیز اس کی ترقی اور نشوونما کو روکنے والی ہے۔ (چوتھے) مالک باغ کا دشمن یا اور کوئی حاسد اس پودے کی شاخ و برگ وغیرہ کو نہ کاٹ ڈالے۔ یا اس کو جڑ سے اکھاڑ کر نہ پھینک دے۔ اگر ان چار باتوں کا خاطر خواہ بندوبست باغبان نے کر لیا تو خدا سے امید رکھنا چاہیئے کہ وہ پودا بڑا ہوگا، پھولے پھلے گا، اور مخلوق اس کی پرمیوہ شاخوں سے استفادہ کریگی۔ ٹھیک اسی طرح ہم کو خالق ارض وسماء سے (جو رب الفلق اور فالق الحب والنویٰ اور چمنستان عالم کا حقیقی مالک و مربی ہے اپنے شجر وجود اور شجر ایمان کے متعلق ان ہی چار قسم کی آفات سے پناہ مانگنا چاہیئے جو اوپر مذکور ہوئیں۔ پس معلوم کرنا چاہیئے کہ جس طرح اوّل قسم میں سبزہ خور جانوروں کی ضررسانی محض ان کی طبیعت کےمقتضیات میں سے تھی۔ شرّ ماخلق: اسی طرح "شر" کی اضافت "ماخلق" کی طرف بھی اسی جانب مشیر ہے کہ یہ شر اُس مخلوق میں من حیث ہو مخلوق کے واسطے ثابت ہے اور اس کے صدور میں بجز ان کی طبیعت اور پیدائشی دواعی کے اور کسی سبب کو دخل نہیں جیسا کہ سانب بچھو اور تمام سباع و بہائم وغیرہ میں مشاہدہ کیا جاتا ہے؎ نیش عقرب نہ ازپئے کین است مقتضائے طیعتش این است۔ غاسقٍ اذا وقب کی تفسیر: اس کے بعد دوسرے درجہ میں غَاسِقٍ اِذَاوَقَبَ سے تعوذ کی تعلیم دی گئ ہے جس سے مفسرین کے نزدیک مراد یا تو رات ہے جب خوب اندھیری ہو، یا آفتاب ہے جب غروب ہو جائے، یا چاند ہے جب اس کو گہن لگ جائے۔ ان میں سے کوئی معنی لو۔ اتنی بات یقینی ہے کہ غاسق میں سے شرکا پیدا ہونا اس کے وقوب (کسی چیز کے نیچے چھپ جانے) پر مبنی ہے۔ اور ظاہر ہے وقوب (چھپ جانے) میں اس کے سوا کوئی بات نہیں کہ ایک چیز کا علاقہ ہم سے منقطع ہو جائے، اور جو فوائد اس کے ظہور کے وقت ہم کو حاصل ہوتے تھے وہ اب ہاتھ نہ آئیں۔ لیکن جب یہ ہے تو یہ تمثیل اسباب و مسببات سے زیادہ اور کسی چیز پر چسپاں نہیں ہوتی، کیونکہ مسبب کا وجود اسباب و معدات کے وجود پر موقوف ہوتا ہے اور جب تک اسباب کو علاقہ مسببات کے ساتھ قائم نہ ہو، ہر گز کوئی مسبب اپنی ہستی میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اور یہی وہ بات ہے جس کو ہم نے آفت کی دوسری قسم میں یہ کہہ کر بیان کیا تھا کہ پانی، ہوا اور حرارت آفتاب (غرض کل اسباب زندگی و ترقی) کا اگر خاطر خواہ انتظام نہ ہوا تو وہ پودا کملا کر خشک ہو جائے گا۔ سحر اور اس کا اثر: اب اس کے بعد تیسرا تعوذ نَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ سے کیا گیا۔ جس سے میں کہہ چکا ہوں کہ ساحرانہ اعمال مراد ہیں۔ جو لوگ سحر کا وجود تسلیم کرتے ہیں وہ یہ مانتے ہیں کہ سحر کے اثر سے مسحورکو ایسے امور عارض ہو جاتے ہیں جن سے طبیعت کے اصلی آثار مغلوب ہو کر دب جائیں تو سحر کی یہ آفت اس آفت سے بہت ہی مشابہ ہوئی جو پودے پر برف وغیرہ گرنے اور حرارت عزیزیہ کےمحتقن (بند) ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی تھی جس سے اس کی نشوونما رک جاتی تھا۔ لبید بن اعصم کے قصہ میں جو الفاظ آئے ہیں فَقَامَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃ والسَّلَامَ کانّمااُلْشِطَ مِنْ عِقَال اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی چیز نے مستولی ہو کر آپ کے مقتضیات طبیعت کو چھپالیا تھا جو جبریلؑ کے تعوذ سے باذن اللہ دفع ہوگئ۔ اب ان آفات میں سے جن سے تحرز کرنا ضروری قرار دیا گیا تھا صرف ایک آخری درجہ باقی ہے۔ یعنی کوئی مالک باغ کا دشمن بربناء عداوت و حسد پودے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے یا اس کی شاخ و برگ کاٹ ڈالے "شر" کے اس مرتبہ کو مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ نے بہت ہی وضاحت کے ساتھ ادا کر دیا ہاں اس تقریر میں اگر کچھ کمی ہے تو صرف اتنی کہ کبھی کبھی تخم کو ان چاروں آفات میں سے کسی کا سامنا کرنا نہیں پڑتا، بلکہ روئیدگی سے پہلے ہی یا تو بعض چیونٹیاں اس تخم کے باطن میں سے وہ خاص جوہر چوس لیتی ہیں جس سے تخم کی روئیدگی ہوتی ہے اور جس کو ہم "قلب الحبوب" یا "سویدائے تخم" سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ یا اندر ہی اندر گھن لگ کر کھوکھل ہوجاتا ہے اور قابل نشوونما نہیں رہتا۔ وسواس اندرونی خطرات ہیں: شاید اسی سرسری کمی کی تلافی کے لئے دوسری سورت میں الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ کے شر سے استعاذہ کی تعلیم فرمائی گئ۔ کیونکہ "وسواس" ان ہی فاسد خطرات کا نام ہے جو ظاہر ہو کر نہیں، بلکہ اندرونی طور پر ایمان کی قوت میں رخنہ ڈالتے ہیں۔ اور جن کا علاج عالم الخفیات والسرائر کے سوا کسی کے قبضہ میں نہیں۔ لیکن جب وساوس کا مقابلہ ایمان سے ٹھہرا تو دفع وسواس کے واسطے انہی صفات سے تمسک کرنے کی ضرورت ہوئی جو ایمان کے اصل مبادی و مناشی گنے جاتے ہیں اور جن سے ایمان کو مدد پہنچتی ہے۔ اب تجربہ سے معلوم ہوا کہ سب سے اول ایمان (انقیادوتسلیم) کا نشوونما حق تعالیٰ کی تربیت ہائے بے پایاں اور انعامات بے غایات ہی کو دیکھ کر حاصل ہوتا ہے۔ پھر جب ہم اس کی ربوبیت مطلقہ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمارا ذہن ادھر منتقل ہوتا ہے کہ وہ رب العزت مالک الملک اور شہنشاہِ مطلق بھی ہے۔ کیونکہ تربیت مطلقہ کے معنی ہر قسم کی جسمانی و روحانی ضروریات بہم پہنچانے کے ہیں اور یہ کام بجز ایسی ذات منبع الکمالات کے اور کسی سے بن نہیں پڑ سکتا جو ہر قسم کی ضروریات کی مالک ہو اور دنیا کی کوئی ایک چیز بھی اس کے قبضہ اقتدار سے خارج نہ ہو سکے۔ مالک الملک: ایسی ہی ذات کو ہم "مالک الملک" اور "شہنشاہ مطلق" کہہ سکتے ہیں۔ اور لاریب اسی کی یہ شان ہونی چاہیئے لِمَنِ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ ؕ لِلّٰہِ الۡوَاحِدِ الۡقَہَّارِ (مومن۔۱۶) گویا "مالکیت" یا "ملکیت" ایک ایسی قوت کا نام ہے جس کی فعلیت کا مرتبہ "ربوبیت" سے موسوم ہوتا ہے۔ کیونکہ ربوبیت کا کل خلاصہ اغطاء منفعت اور دفع مضرت ہے اور ان دونوں چیزوں پر قادر ہونا یہ ملک علی الاطلاق کا منصب ہے۔ پھر ذرا اور آگے بڑھتے ہیں تو ملک علی الاطلاق ہونے ہی سے ہم کو اس کی معبودیت (الہٰیت) کا سراغ ملتا ہے کیونکہ معبود اسی کو کہتے ہیں جس کے حکم کے سامنے گردن ڈال دی جائے اور اس کے حکم کے مقابلہ میں کسی دوسرے کے حکم کی اصلا پروانہ کی جائے۔ تو ظاہر ہے کہ یہ انقیادوبندگی بجز محبت کاملہ اور حکومت مطلقہ کے اور کسی کے سامنے سزا وار نہیں اور ان دونوں چیزوں کا اصلی مستحق اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ اس لئے معبودیت و الہٰیۃ کی صفت بھی تنہا اسی وحدہ لاشریک لہ کے لئے ثابت ہوگئ۔ پڑھو اَتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا (المائدہ۔۷۶) غرض سب سے اول جو صفت ایمان کا مبداء بنتی ہے وہ ربوبیت ہے اس کے بعد صفت ملکیت اور سب کے بعد الوہیت کا مرتبہ ہے۔ پس جو شخص اپنے ایمان کو وسواس شیطانی کی مضرت سے بچانے کے لئے حق تعالیٰ کی بارگاہ میں چارہ جوئی کریگا اس کو اسی طرح درجہ بدرجہ نیچے کی عدالت سے اوپر کی عدالت میں جانا مناسب ہوگا۔ جس طرح خود اس نے بالترتیب اپنی صفات (رب الناس، ملک الناس، الہ الناس) کو سورۃ "الناس" میں بیان فرما دیا ہے۔ ایک لطیف نکتہ: اور عجیب بات یہ ہے کہ جس طرح مستعاذبہ کی جانب میں یہاں تین صفتیں بغیر داؤعطف اور بغیر اعادہ باء جارہ کے مذکور ہیں یا مستعاذبہ کی جانب بھی تین چیزیں نظر آتی ہیں جو صفت درصفت کرکے بیان کی گئ ہیں اس کو یوں سمجھ سکتے ہو کہ لفظ وسواس کو صفت الوہیت کے مقابلہ میں رکھو، کیونکہ جس طرح مستعاذبہ حقیقی "الہٰ الناس" ہے اور "ملک" و "رب" اسی تک رسائی حاصل کرانے کے عنوان قرار دیے گئے ہیں، اسی طرح مستعاذبہ کی حقیقت یہ ہی وسواس ہے جس کی صفت آگے "خناس" بیان فرمائی ہے۔ "خناس سے مراد یہ ہے کہ شیطان بحالت غفلت آدمی کے دل میں وسواس ڈالتا رہتا ہے، اور جب کوئی بیدار ہو جائے تو چوروں کی طرح پیچھے کو کھسک آتا ہے۔ ایسے چوروں اور بدمعاشوں کا بندوبست اور ان کے دست تعدی سے رعایا کو مصئون و مامون بنانا بادشاہانِ وقت کا خاص فریضہ ہوتا ہے۔ اس لئےمناسب ہوگا کہ اس صفت کے مقابل مَلِکَ النَّاسِ کو رکھا جائے۔ اور الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِالنَّاسِ ۔ جو "خناس" کی فعلیت کا درجہ ہے اور جس کو ہم چور کے نقب لگانے سے تشبیہ دے سکتے ہیں اس کو "رب الناس" کے مقابلہ میں (جو حسب تحریر سابق"ملک الناس" کی فعلیت کا مرتبہ ہے) شمار کیا جائے۔ پھر دیکھیے کہ مستعاذ منہ اور مستعاذبہ میں کس قدر تام اور کامل تقابل ظاہر ہوتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم باسرارکلامہ۔(تنبیہ) آنحضرت ﷺ پر سحر کا اثر منصب رسالت کے منافی نہیں: کئ صحابہؓ (مثلًا حضرت عائشہ صدیقہؓ، ابن عباسؓ، زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ پر بعض یہود نے سحر کیا۔ جس کے اثر سے ایک طرح کا مرض سا بدن مبارک کو لاحق ہوگیا۔ اس دوران میں کبھی ایسا بھی ہوا کہ آپ ﷺ ایک دنیوی کام کر چکے ہیں، مگر خیال گزرتا تھا کہ نہیں کیا۔ یا ایک کام نہیں کیا اور خیال ہوتا تھا کہ کر چکے ہیں۔ اس کے علاج کے واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ دو سورتیں نازل فرمائیں اور ان کی تاثیر سے وہ اثر باذن اللہ زائل ہوگیا۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ صحیحین میں موجود ہے جس پر آج تک کسی محدث نےجرح نہیں کی۔ اور اس طرح کی کیفیت منصب رسالت کے قطعًا منافی نہیں۔ جیسے آپ ﷺ کبھی کبھی بیمار ہوئے۔ بعض اوقات غشی طاری ہوگئ یا کئ مرتبہ نماز میں سہو ہوگیا، اور آپ ﷺ نے فرمایا اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ اَنْسٰی کَمَا تَنْسَوْنَ فَاِذَانَسِیْتُ فَذَکِّرُوْنِیْ (میں بھی ایک بشر ہوں جیسے تم بھولتے ہو میں بھی بھولتا ہوں، میں بھول جاؤں تو یاد دلا دیا کرو) کیا اس غشی کی کیفیت اور سہو و نسیان کو پڑھ کر کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اب وحی پر اور آپ ﷺ کی دوسری باتوں پر کیسے یقین کریں ممکن ہے ان میں بھی سہو و نسیان اور بھول چوک ہوگئ ہو۔ اگر وہاں سہوونسیان کے ثبوت سے یہ لازم نہیں آتا کہ وحی الہٰی اور فرائض تبلیغ میں شکوک و شبہات پیدا کرنے لگیں، تو اتنی بات سے کہ احیانًا آپ ﷺ ایک کام کر چکے ہوں اور خیال گزرے کہ نہیں کیا، کس طرح لازم آیا کہ آپ کی تمام تعلیمات اور فرائض بعثت سے اعتبار اٹھ جائے۔ یاد رکھیئے سہو ونسیان، مرض اور غشی وغیرہ عوارض خواص بشریت سے ہیں۔ اگر انبیاء بشر ہیں تو ان خواص کا پایا جانا ان کے رتبہ کو کم نہیں کرتا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جب ایک شخص کی نسبت دلائل قطعیہ اور براہین نیرّہ سے ثابت ہو جائے کہ وہ یقینًا اللہ کا سچا رسول ہے، تو ماننا پڑیگا کہ اللہ نے اس کی عصمت کا تکفل کیا ہے اور وہی اس کو اپنی وحی کے یاد کرانے سمجھانے اور پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔ ناممکن ہے کہ ان کے فرائض دعوت و تبلیخ کی انجام دہی میں کوئی طاقت خلل ڈال سکے۔ نفس ہو، یا شیطان، مرض ہو، یا جادو، کوئی چیز ان امور میں رخنہ اندازی نہیں کر سکتی، جو مقصد بعثت سے متعلق ہیں۔ کفار جو انبیاء کو "مسحور" کہتے تھے، چونکہ ان کا مطلب نبوت کا ابطال اور یہ ظاہر کرنا تھا کہ جادو کے اثر سے ان کی عقل ٹھکانے نہیں رہی، گویا "مسحور" کے معنی "مجنوں" کے لیتے تھے اور وحی الہٰی کو جوش جنوں قرار دیتے تھے (العیاذ باللہ) اس لئے قرآن میں ان کی تکذیب و تردید ضروری ہوئی یہ دعوٰی کہیں نہیں کیا گیا کہ انبیاء علیہم السّلام لوازم بشریت سے مستثنٰی ہیں۔ اور کسی وقت ایک آن کے لئے کسی نبی پر سحر کا معمولی اثر جو فرائض بعثت میں اصلاخلل انداز نہ ہو، نہیں ہو سکتا۔(تنبیہ دوم) دونوں سورتیں قرآن کا حصہ ہیں: معوذتین کے قرآن ہونے پر تمام صحابہؓ کا اجماع ہے اور ان کے عہد سے آج تک بتواتر ثابت ہے۔ صرف ابن مسعودؓ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ ان دوسورتوں کو اپنے مصحف میں نہیں لکھتے تھے۔ لیکن واضح رہے کہ ان کو بھی ان سورتوں کے کلام اللہ ہونے میں شبہ نہ تھا۔ وہ مانتے تھے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور لاریب آسمان سے اترا ہے۔ مگر ان کے نازل کرنے کا مقصد رقیہ اور علاج تھا۔ معلوم نہیں کہ تلاوت کی غرض سے اتاری گئ یا نہیں اس لئے ان کو مصحف میں درج کرنا اور اس قرآن میں شامل کرنا جس کی تلاوت نماز وغیرہ میں مطلوب ہے، خلاف احتیاط ہے۔ روح البیان میں ہے۔ اِنَّہٗ کان لَایَعُدُّ الْمُعَوَّذتَیْنِ مِنَ الْقُرْاٰنِ وَکَانَ لایکتبھما فی مصحفہ یقول انھما منزّلتان مِنَ السّمآءِ وھما من کلام رب العٰلمین ولکن النّبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کان یرقی ویعوذبھما فاشتبہ علیہ انّھُمَا من القراٰن اولیسا منہ فلم یکتبھما فی المصحف (صفحہ ۷۲۳ جلد ۴) قاضی ابوبکر باقلّانی لکھتے ہیں لم ینکر ابن مسعود کو نھما من القراٰن وانما انکر اثباتھما فی المصحف فانہ کان یری ان لایکتب فی المصحف شیًٔا الّا ان کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذن فی کتابتہٖ فیہ وکانہ لم یبلغہ الاذن (فتح الباری صفحہ ۵۷۱ جلد ۸) حافظ نے ایک اور عالم کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں لم یکن اختلاف ابن مسعود مع غیرہ فی قراٰنیتھما وانما کان فی صفۃ من صفاتھما فتح الباری صفحہ ۵۷۱ جلد ۵) بہر حال انکی یہ رائے بھی شخصی اور انفرادی تھی اور جیسا کہ بزار نے تصریح کی ہے۔ کسی ایک صحابیؓ نے ان سے اتفاق نہیں کیا اور بہت ممکن ہے کہ جب تواتر سے ان کو ثابت ہو گیا ہو کہ یہ بھی قرآن متلو ہے تو اپنی رائے پر قائم نہ رہے ہوں۔ اس کے علاوہ ان کی یہ انفرادی رائے بھی محض خبر واحد سے معلوم ہوئی ہے جو تواتر قرآنی کے مقابلہ میں قابلِ سماعت نہیں ہو سکتی۔ شرح مواقف میں ہے ان اختلف الصحابہ فی بعض سورالقراٰن مروی بالاٰحادالمفیدۃ للظن و مجموع القراٰن منقول بالتواتر المفید للیقین الذی یضمحل الظن فی مقابلہ فتلک الا حادممّا لایلتفت الٰیہ ثم ان سلمنا اختلافھم فیما زکر قلنا انّھم لم یختلفوا فی نزولہ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولا فی بلوغہ فی البلاغۃ حدالا عجازبل فی مجرد کونہ من القراٰن و ذٰلک لایضر فیما نحن بصددہ اھہ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں واجیب باحتمال انہ کان متواترًا فی عصر ابن مسعود لکن لم یتواتر عند ابن مسعود فانحلت العقدۃ بعون اللہ تعالیٰ الخ اور صاحب المعانی کہتے ہیں، و لعل ابن مسعود رجع عن ذالک۔ آھہ ۔ اس رب کریم کا شکر کس زبان سے ادا کروں۔ جسکی خالص توفیق و تیسیر سے آج یہ مہتم بالشان کام انجام کو پہنچا۔ الہٰی! آج عرفہ کے مبارک دن اور وقوف بعرفات کے وقت میں تیرے کلام پاک کی ایک مختصر خدمت جو محض تیرے فضل و اعانت سے اختتام پذیر ہوئی تیری بارگاہ قدس میں بصد عجزونیاز پیش کرتا ہوں۔ تو اپنے فضل و کرم سے اس کو قبول فرما اور مقبول بنا، الہٰی! میں معترف ہوں کہ اس خدمت کی انجام دہی میں حق اخلاص ادا نہیں ہو سکا۔ لیکن تیری رحمت و رافت جب سیئات کو حسنات سے بدل ڈالتی ہے اس کے لئے ایک صورت حسنہ کو حقیقت حسنہ بنا دینا کیا بڑی بات ہے۔ میرا گمان تیرے ساتھ یہی ہے کہ تو اپنی نکتہ نوازی سے اس ناچیز عمل کو زندہ جاوید بنائے گا، اور اس کے نیک ثمرات سے دارین میں مجھ کو متمتع فرمائے گا۔ اے اللہ! تو اپنے قرآن پاک کی برکت سے میری، میرے والدین کی، میرے شیوخ و اساتذہ کی، میرے اقارب و احباب کی، اور ان کی جو اس کارخیر کے محرک و داعی بنے، یا جنہوں نے اس عظیم الشان کام میں رفاقت و اعانت کی سب کی مغفرت فرمایئے اور سب کو دنیا و آخرت کی بلاؤں سے مامون و مصئون رکھیے اور حضرت مترجم قدس سرہ کے ساتھ جنت الفردوس میں جمع کیجیے ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم، اللھم انس وحشتی فی قبری اللھم ارحمنی بالقران العظیم و اجعلہ لی امامًا و نورًا و ھدًی ورحمۃ اللھم ذکرنی منہ ما نسیت وعلمنی منہ ماجھلت وارزقنی تلاوتہ اٰناء اللیل و اٰناء النھار واجعلہ حجۃ لی یا رب العالمین ۔ ولتعم ماقیل: اول و آخر قرآن زچہ باآمد وسین : یعنی اندردوجہاں رہبر ما قرآن بس۔ ۹۔ذی الحجہ ۱۳۵۰ھ دیوبند العبد الفقر فضل اللہ المدعوبہ شبیر احمد ابن مولنا فضل الرحمٰن العثمانی قد کان ابیؒ سمّانی بفضل اللہ وکان نیشد۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔ ولوکرہ الاعداء من کلا حاسد!