Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Jathiyah — Ayah 24

45:24
وَقَالُواْ مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنۡيَا نَمُوتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَآ إِلَّا ٱلدَّهۡرُۚ وَمَا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍۖ إِنۡ هُمۡ إِلَّا يَظُنُّونَ ٢٤
اور کہتے ہیں اورکچھ نہیں بس یہی ہے ہمارا جینا دنیا کا ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم جو مرتے ہیں سو زمانہ سے1 اور انکو کچھ خبر نہیں اسکی محض اٹکلیں دوڑاتے ہیں 2
Footnotes
  • [1] دہریت کا باطل عقیدہ:یعنی اس دنیا کی زندگی کے سوا کوئی دوسری زندگی نہیں بس یہ ہی ایک جہان ہے جس میں ہمارا مرنا اور جینا ہے۔ جیسے بارش ہونے پر سبزہ زمین سے اگا، خشکی ہوئی تو سوکھ کر ختم ہو گیا۔ یہ ہی حال آدمی کا سمجھو، ایک وقت آتا ہے پیدا ہوتا ہے۔ پھر معین وقت تک زندہ رہتا ہے، آخر زمانہ کا چکر اسے ختم کر دیتا ہے یہ ہی سلسلہ موت و حیات کا دنیا میں چلتا رہتا ہے۔ آگے کچھ نہیں۔
  • [2] ان عقیدوں کی بنیاد محض اٹکل ہے:یعنی زمانہ نام ہے دہر کا۔ وہ کچھ کام کرنے والا نہیں کیونکہ نہ اس میں حِسّ ہے نہ شعور نہ ارادہ، لا محالہ وہ کسی اور چیز کو کہتے ہوں گے جو معلوم نہیں ہوتی۔ لیکن دنیا میں اس کا تصرف چلتا ہے۔ پھر اللہ ہی کو کیوں نہ کہیں جس کا وجود اور متصرف علی الاطلاق ہونا دلائل فطریہ اور براہین عقلیہ و نقلیہ سے ثابت ہو چکا ہے۔ اور زمانہ کا الٹ پھیر اور رات دن کا ادل بدل کرنا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ زمانے کو برا نہ کہو: اس معنی سے حدیث میں بتلایا گیا کہ دہر اللہ ہے اس کو برا نہ کہنا چاہئے۔ کیونکہ جب آدمی دہر کو برا کہتا ہے، اسی نیت سے کہتا ہے کہ حوادثِ دہر اسکی طرف منسوب ہیں حالانکہ تمام حوادث دہر اللہ کے ارادے اور مشیت سے ہیں تو دہر کی برائی کرنے سے حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی ہوتی ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔