Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Ahqaf — Ayah 10

46:10
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِن كَانَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ وَكَفَرۡتُم بِهِۦ وَشَهِدَ شَاهِدٞ مِّنۢ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ عَلَىٰ مِثۡلِهِۦ فَـَٔامَنَ وَٱسۡتَكۡبَرۡتُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٠
تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر یہ آیا ہو اللہ کے یہاں سے اور تم نے اس کو نہیں مانا اور گواہی دے چکا ایک گواہ بنی اسرائیل کا ایک اسی کتاب کی پھر وہ یقین لایا اور تم نے غرور کیا بیشک اللہ راہ نہیں دیتا گنہگاروں کو1
Footnotes
  • [1] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر موسٰی علیہ السلام کی شہادت:اس زمانہ میں عرب کے جاہل مشرک بنی اسرائیل کے علم و فضل سے مرعوب تھے جب حضور ﷺ کی نبوت کا چرچا ہوا تو مشرکین نے اس باب میں علمائے بنی اسرائیل کا عندیہ لینا چاہا۔ غرض یہ تھی کہ وہ لوگ آپ کی تکذیب کر دیں تو کہنے کو ایک بات ہاتھ آ جائے کہ دیکھو اہل علم اور اہل کتاب بھی انکی باتوں کو جھوٹا کہتے ہیں۔ مگر اس مقصد میں مشرکین ہمیشہ ناکام رہے۔ خدا تعالیٰ نے انہی بنی اسرائیل کی زبانوں سے حضور ﷺ کی تصدیق و تائید کرائی۔ نہ صرف اتنی بات سے کہ وہ لوگ بھی قرآن کی طرح تورات کو آسمانی کتاب اور آنحضرت ﷺ کی طرح حضرت موسٰیؑ کو پیغمبر کہتے تھے اور اس طرح حضور ﷺ کا دعوئے رسالت اور قرآن کی وحی کوئی انوکھی چیز نہیں رہتی بلکہ اس طرح کہ بعض علمائے یہود نے صریحًا اقرار کیا اور گواہی دی کہ بیشک ہمارے ہاں اس ملک (عرب) سے ایک عظیم الشان رسول اور کتاب کے آنے کی خبر دی گئ ہے اور یہ رسول وہ ہی معلوم ہوتا ہے اور یہ کتاب اسی طرح کی ہے ۔ جس کی خبر دی گئ تھی۔ علمائے یہود کی پیشینگوئیاں: علمائے یہود کی یہ شہادتیں فی الحقیقت ان پیشین گوئیوں پر مبنی تھیں جو باوجود ہزار ہا تحریف و تبدل کے آج بھی تورات وغیرہ میں موجود چلی آتی ہیں۔ جن سے ہویدا ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کا سب سے بڑا گواہ (حضرت موسٰیؑ ) ہزاروں برس پہلے خود گواہی دے چکا ہے کہ بنی اسرائیل کے اقارب اور بھائیوں (بنی اسمٰعیل) میں سے اسی کی مثل ایک رسول آنے والا ہے اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا (المزمل۔۱۵) یہ ہی سبب تھا کہ بعض منصف و حق پرست احبار یہود مثلًا عبداللہ بن سلام وغیرہ حضور ﷺ کا چہرہ مبارک دیکھتے ہی اسلام لے آئے اور بول اٹھے کہ اِنَّ ھٰذَا الْوَجْہَ لَیْسَ بِوَجْہٍ کَاذِبٍ (یہ چہرہ جھوٹے کا چہرہ نہیں) انہوں نے قرآن جیسی واضح الاعجاز کتاب کے حق ہونے کی گواہی دی پھر جب موسٰیؑ ایک چیز پر وقوع سے ہزاروں برس پہے ایمان رکھیں، علمائے یہود اسکے صدق کی گواہی دیں۔ بعض احبار یہود زبانی و قلبی شہادت دے کر مشرف با سلام ہو جائیں، اور ان سب شہادتوں کے باوجود تم اپنی شیخی اور غرور سے اسکو قبول نہ کرو تو سمجھ لو اس سے بڑھ کر ظلم اور گناہ کیا ہوگا۔ اور ایسے ظالم اور گنہگار کی نجات و فلاح کی کیا توقع ہو سکتی ہے۔