Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Ahqaf — Ayah 20

46:20
وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ عَلَى ٱلنَّارِ أَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبَٰتِكُمۡ فِي حَيَاتِكُمُ ٱلدُّنۡيَا وَٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِهَا فَٱلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ ٱلۡهُونِ بِمَا كُنتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَبِمَا كُنتُمۡ تَفۡسُقُونَ ٢٠
اور جس دن لائے جائیں گے منکر آگ کے کنارہ پر ضائع کئے تم نے اپنے مزے دنیا کی زندگانی میں اور انکو برت چکے1 اب آج سزا پاؤ گے ذلت کا عذاب بدلا اس کا جو تم غرور کرتے تھے ملک میں ناحق اور اس کا جو تم نافرمانی کرتے تھے2
Footnotes
  • [1] کافروں کے نیک کام:کافر کے کسی نیک کام میں ایمان کی روح نہیں ہوتی۔ محض صورت اور ڈھانچہ نیکی کا ہوتا ہے۔ ایسی فانی نیکیوں کا اجر بھی فانی ہے جو اسی زندگی میں مال، اولاد، حکومت ، تندرستی، عزت و شہرت وغیرہ کی شکل میں مل جاتا ہے۔ اس کو فرمایا کہ تم اپنی صوری نیکیوں کے مزے دنیا میں لے چکے اور وہاں کی لذتوں سےتمتع کر چکے۔ جو عیش و آرام ایمان لانے کی تقدیر پر آخرت میں ملتا۔ گویا اس کی جگہ بھی دنیا میں مزے اڑا لئے۔ اب یہاں کے عیش میں تمہارا کوئی حصہ نہیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتےہیں "جن لوگوں نے آخرت نہ چاہی فقط دنیا ہی چاہی ان کی نیکیوں کا بدلہ اسی دنیا میں مل چکا"۔
  • [2] غرور اور نافرمانی کی سزا:یعنی آج تمہاری جھوٹی شیخی اور نافرمانیوں کی سزا میں ذلیل و رسوا کرنے والا عذاب دیا جائے گا یہ ہی ایک چیز تمہارے لئے یہاں باقی ہے۔ آگے بعض زورآور اور متکبر قوموں کا حال بیان فرماتے ہیں کہ آخرت سے پہلے دنیا ہی میں انکا انجام کیا ہوا۔