Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Ahqaf — Ayah 29

46:29
وَإِذۡ صَرَفۡنَآ إِلَيۡكَ نَفَرٗا مِّنَ ٱلۡجِنِّ يَسۡتَمِعُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوٓاْ أَنصِتُواْۖ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوۡاْ إِلَىٰ قَوۡمِهِم مُّنذِرِينَ ٢٩
اور جس وقت متوجہ کر دیے ہم نے تیری طرف کتنے اک لوگ جنوں میں سے سننے لگے قرآن پھر جب وہاں پہنچ گئے بولے چپ رہو پھر جب ختم ہوا الٹے پھرے اپنی قوم کو ڈر سناتے ہوئے1
Footnotes
  • [1] جنات کا قرآن سننا اور ایمان لانا:بعثت محمدی سے قبل جنوں کو کچھ آسمانی خبریں معلوم ہو جاتی تھیں۔ جب حضور پر وحی آنا شروع ہوئی تو وہ سلسلہ تقریبًا بند ہو گیا اور بہت کثرت سے شُہُب کی مار پڑنے لگی۔ جنوں کو خیال ہوا کہ ضرور کوئی نیا واقعہ ہوا ہے جس کی وجہ سے آسمانی خبروں پر سخت پہرے بٹھلائے گئے ہیں۔ اسی کی جستجو کے لئے جنوں کے مختلف گروہ مشرق و مغرب میں پھیل پڑے۔ ان میں سے ایک جماعت "بطن نخلہ" کی طرف گذری۔ وہاں اتفاق سے اس وقت حضور پرنور ﷺ اپنے چند اصحاب کے ساتھ نماز فجر ادا کر رہے تھے اللہ تعالٰی نے جنوں کی اس ٹکڑی کا رخ قرآن سننے کے لئے ادھر پھیر دیا۔ قرآن کی آواز انہیں بہت عجیب اور موثر و دلکش معلوم ہوئی اور اس کی عظمت و ہیبت دلوں پر چھا گئ۔ آپس میں کہنے لگے کہ چپ رہو اور خاموشی کے ساتھ یہ کلام پاک سنو۔ آخر قرآن کریم نے ان کے دلوں میں گھر کر لیا۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ ہی نئی چیز ہے جس نے جنوں کو آسمانی خبروں سے روکا ہے۔ بہرحال جب حضور قرآن پڑھ کر فارغ ہوئے، یہ لوگ اپنے دلوں میں ایمان و ایقان لے کر واپس گئے اور اپنی قوم کو نصیحت کی۔ انکی مفصل باتیں سورہ "جِنّ" میں آئیں گی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مرتبہ حضور ﷺ کو انکے آنے جانے اور سننے سنانے کا پتہ نہیں لگا۔ ایک درخت نے باذن اللہ کچھ اجمالی اطلاع آپ ﷺ کو دی اور مفصل حال اس کے بعد وحی کے ذریعہ سے معلوم کرایا گیا کما قال تعالٰی قُلۡ اُوۡحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ اسۡتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الۡجِنِّ الخ (جن۔۱) بعدہٗ بہت بڑی تعداد میں جن مسلمان ہوئے اور حضور ﷺ سے ملاقات کرنے اور دین سیکھنے کے لئے انکے وفود حاضر خدمت ہوئے۔ خفاجی نے روایت کی بناء پر دعوٰی کیا ہے کہ چھ مرتبہ آپ نے جنوں سے ملاقات کی۔ اس لئے روایات میں جو اختلاف انکے عدد یا دوسرے امور کے متعلق معلوم ہوتا ہے اسکو تعدد وقائع پر حمل کرنا چاہئے۔