Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Ahqaf — Ayah 35

46:35
فَٱصۡبِرۡ كَمَا صَبَرَ أُوْلُواْ ٱلۡعَزۡمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ وَلَا تَسۡتَعۡجِل لَّهُمۡۚ كَأَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَ مَا يُوعَدُونَ لَمۡ يَلۡبَثُوٓاْ إِلَّا سَاعَةٗ مِّن نَّهَارِۭۚ بَلَٰغٞۚ فَهَلۡ يُهۡلَكُ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ ٣٥
سو تو ٹھہرا رہ جیسے ٹھہرے رہے ہیں ہمت والے رسول اور جلدی نہ کر انکے معاملہ میں1 یہ لوگ جس دن دیکھ لیں گے اس چیز کو جس کا ان سےوعدہ ہے جیسے ڈھیل نہ پائی تھی مگر ایک گھڑی دن کی2 یہ پہنچا دینا ہے اب وہی غارت ہوں گے جو لوگ نافرمان ہیں3
Footnotes
  • [1] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کی تلقین:یعنی جب معلوم ہو چکا کہ منکرین کو سزا ملنی ضرور ہے۔ آخرت میں ملے یا دنیا میں بھی۔ تو آپ ﷺ ان کے معاملہ میں جلدی نہ کریں۔ بلکہ ایک معیاد معین تک صبر کرتے رہیں جیسے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا ہے۔ (تنبیہ) بعض سلف نے کہا کہ سب رسول اولوالعزم (ہمت والے) ہیں اور عرف میں پانچ پیغمبر خصوصی طور پر اولوالعزم کہلاتے ہیں۔ حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسٰیؑ، حضرت عیسٰیؑ اور حضرت محمد ﷺ۔
  • [2] دنیا کی زندگی ایک گھڑی کے برابر ہے:"ڈھیل نہ پائی تھی"۔ دنیا میں، یعنی اب تو دیر سمجھتے ہیں کہ عذاب جلد کیوں نہیں آتا اس دن جانیں گے کہ بہت شتاب آیا۔ دنیا میں ایک ہی گھڑی رہے۔ یا عالم قبر کا رہنا ایک گھڑی معلوم ہو گا۔ قاعدہ ہے کہ گذری ہوئی مدت تھوڑی معلوم ہوا کرتی ہے خصوصًا سختی اور مصیبت کے وقت عیش و آرام کا زمانہ بہت کم نظر آنے لگتا ہے۔
  • [3] یعنی ہم نے نصیحت کی بات پہنچا دی، اور سب نیک و بد سمجھا دیا۔ اب جو نہ مانیں گے وہ ہی تباہ و برباد ہوں گے۔ ہماری طرف سے حجت تمام ہو چکی اور کسی کو بے قصور ہم نہیں پکڑتے اسی کو غارت کرتے ہیں جو غارت ہونے ہی پر کمر باندھ لے۔ تمّ سورۃ الاحقاف بفضل اللہ و حسن توفیقہ۔ فللہ الحمد والمنہ۔