Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Ahqaf — Ayah 8

46:8
أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۖ قُلۡ إِنِ ٱفۡتَرَيۡتُهُۥ فَلَا تَمۡلِكُونَ لِي مِنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔاۖ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِۚ كَفَىٰ بِهِۦ شَهِيدَۢا بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡۖ وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٨
کیا کہتے ہیں یہ بنا لایا ہے1 تو کہہ اگر میں یہ بنا لایا ہوں تو تم میرا بھلا نہیں کر سکتے اللہ کے سامنے ذرا بھی2 اس کو خوب خبر ہے جن باتوں میں تم لگ رہے ہو وہ کافی ہے حق بتانے والا میرے اور تمہارے بیچ3 اور وہی ہے بخشنے والا مہربان4
Footnotes
  • [1] الزام کا جواب:یعنی خد اپر جھوٹ لگانا انتہائی جرم ہے ۔ اگر بفرض محال میں ایسی جسارت کروں تو گویا جان بوجھ کر اپنےکو اللہ کے غضب اور اسکی سخت ترین سزا کے لئے پیش کر رہا ہوں۔ بھلا خیال کرو جو شخص ساری عمر بندوں پر جھوٹ نہ لگائے اور ذرا ذرا سے معاملہ میں اللہ کے خوف سے کانپتا ہو، کیا وہ ایک دم بیٹھے بٹھائے اللہ پر جھوٹ طوفان باندھ کر اپنے کو ایسی عظیم ترین آفت و مصیبت میں پھنسائے گا۔ جس سے بچانے والی اور پنادہ دینے والی کوئی طاقت دنیا میں موجود نہیں۔ اگر میں جھوٹ سچ بنا کر فرض کرو تمہیں اپنا تابع کر لوں تو کیا تم خدا کے غضب و قہر سے جو جھوٹے مدعیان نبوت پر ہوتا ہے، مجھ کو نجات دے سکو گے؟ اور جب اللہ مجھ کو برائی پہنچانا چاہے گا، تم میرا کچھ بھلا کر سکو گے؟ آخر میرے چہل سالہ حالات و سوانح سے اتنا تو تم بھی جانتے ہو کہ میں اس قدر بے خوف اور بیباک نہیں ہوں اور نہ ایسا بے عقل ہوں کہ بعض انسانوں کو خوش کر کے خداوند قدوس کا غصہ مول لوں۔ بہرحال اگر میں معاذ اللہ کاذب و مفتری ہوں تو اس کا وبال مجھ پر پڑے گا۔
  • [2] قرآن پاک کو اپنی طرف سے گھڑنے کا الزام:یعنی جادو کہنے سے زیادہ قبیح و شنیع ان کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن مجید آپ خود بنا لائے ہیں اور جھوٹ طوفان خدا کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ العیاذ باللہ۔
  • [3] یعنی جو باتیں تم نے شروع کر رکھی ہیں اللہ ان کو بھی خوب جانتا ہے۔ لہذا لغو اور دورازکار خیالات چھوڑ کر اپنے انجام کی فکر کرو۔ اگر خدا کے سچے رسول کو جھوٹا مفتری کہا تو سمجھ لو اس کا حشر کیا ہوگا۔ خدا پر میری اور تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ وہ اپنے علم صحیح و محیط کے موافق ہر ایک کے ساتھ معاملہ کرے گا۔ میں اسی کو اپنے اور تمہارے درمیان گواہ ٹھہراتا ہوں وہ اپنے قول و فعل سے بتلا رہا ہے اور آئندہ بتلا دے گا کہ کون حق پر ہے اور کون جھوٹ بول رہا ہے، افتراء کر رہا ہے۔
  • [4] یعنی اب بھی باز آؤ تو بخشے جاؤ۔ اور یہ بھی اس کی مہربانی اور بردباری سمجھو کہ باوجود جرائم پر مطلع ہونے اور کامل قدرت رکھنے کے تمکو فورًا ہلاک نہیں کر دیتا۔