Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Muhammad — Ayah 38

47:38
هَٰٓأَنتُمۡ هَٰٓؤُلَآءِ تُدۡعَوۡنَ لِتُنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَمِنكُم مَّن يَبۡخَلُۖ وَمَن يَبۡخَلۡ فَإِنَّمَا يَبۡخَلُ عَن نَّفۡسِهِۦۚ وَٱللَّهُ ٱلۡغَنِيُّ وَأَنتُمُ ٱلۡفُقَرَآءُۚ وَإِن تَتَوَلَّوۡاْ يَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡ ثُمَّ لَا يَكُونُوٓاْ أَمۡثَٰلَكُم ٣٨
سنتے ہو تم لوگ تمکو بلاتے ہیں کہ خرچ کرو اللہ کی راہ میں1 پھر تم میں کوئی ایسا ہے کہ نہیں دیتا اور جو کوئی نہ دے گا سو نہ دے گا آپکو2 اور اللہ بے نیاز ہے اور تم محتاج ہو3 اور اگر تم پھر جاؤگے تو بدل لے گا اور لوگ تمہارے سوائے پھر وہ نہ ہوں گے تمہاری طرح کے4
Footnotes
  • [1] اللہ کو مال کی ضرورت نہیں:حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں یعنی مال خرچ کرنے کی جو تاکید ستنے ہو یہ نہ سمجھو کہ اللہ یا اس کا رسول مانگتا ہے۔ نہیں۔ یہ تمہارے بھلے کو فرماتا ہے۔ پھر ایک کے ہزار ہزار پاؤ گے۔ ورنہ اللہ کو اور اسکے رسول کو کیا پروا ہے۔
  • [2] یعنی ایک حصہ خدا کے دئے ہوئے مال کا اسکے راستہ میں اپنے نفع کی خاطر۔
  • [3] مال خرچ کرنے میں تمہارا ہی فائدہ ہے:یعنی تمہارا دینا خود اپنے فائدہ کے لئے ہے۔ نہ دو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے اللہ کو تمہارے دینے نہ دینے کی کیا پروا۔
  • [4] یعنی اللہ تعالٰی جس حکمت و مصلحت سے بندوں کو خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اس کا حاصل ہونا کچھ تم پر منحصر نہیں۔ فرض کیجئے تم اگر بخل کرو اور اسکے حکم سے روگردانی کرو گے۔ وہ تمہاری جگہ کوئی دوسری قوم کھڑی کر دے گا جو تمہاری طرح بخیل نہ ہو گی۔ بلکہ نہایت فراخدلی سے اللہ کے حکم کی تعمیل اور اسکی راہ میں خرچ کرے گی۔ بہرکیف اللہ کی حکمت و مصلحت تو پوری ہو کر رہے گی۔ ہاں تم اس سعادت سے محروم ہو جاؤ گے۔ حدیث میں اہل فارس کی تعریف: حدیث میں ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ دوسری قوم کون ہے جسکی طرف اشارہ ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے حضرت سلمان فارسیؓ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا "اسکی قوم" اور فرمایا "خدا کی قسم اگر ایمان ثریّا پر جا پہنچے تو فارس کے لوگ وہاں سے بھی اسکو اتار لائیں گے" الحمد للہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس بے نظیر ایثار اور جوش ایمانی کا ثبوت دیا کہ انکی جگہ دوسری قوم کو لانے کی نوبت نہ آئی۔ تاہم فارس والوں نے اسلام میں داخل ہو کر علم اور ایمان کا وہ شاندار مظاہرہ کیا اور ایسی زبردست دینی خدمات انجام دیں جنہیں دیکھ کر ہر شخص کو ناچار اقرار کرنا پڑتا ہے کہ بیشک حضور ﷺ کی پیشینگوئی کے موافق یہ ہی قوم تھی جو بوقت ضرورت عرب کی جگہ پر کر سکتی تھی۔ امام ابوحنیفہؒ پیشینگوئی کا مصداق ہیں: ہزار ہا علماء و ائمہ سے قطع نظر کر کے تنہا امام اعظم ابوحنیفہؒ کا وجود ہی اس پیشینگوئی کے صدق پر کافی شہادت ہے۔ بلکہ اس بشارت عظمٰی کے کامل اور اولین مصداق امام صاحب ہی ہیں۔ رضی اللہ تعالٰی عنہ و ارضاہ۔ تمَّ سورۃ محمد ﷺ بتوفیقہ و اعانتہ فلہ الحمد والمنہ