Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Fath — Ayah 1

48:1
إِنَّا فَتَحۡنَا لَكَ فَتۡحٗا مُّبِينٗا ١
1 ہم نے فیصلہ کر دیا تیرے واسطے صریح فیصلہ
Footnotes
  • [1] سورہ فتح کے نزول کا پس منظر:اس سورۃ کی مختلف آیات میں متعدد واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ بغرض سہولت فہم انکو مختصرًا یہاں لکھ دینا مناسب معلوم ہو تا ہے۔ (الف) آنحضرت ﷺ نے مدینہ میں خواب دیکھا کہ ہم مکہ میں امن و امان کے ساتھ داخل ہوئے اور عمرہ کر کے حلق و قصر کیا۔ آپ ﷺ نے یہ خواب صحابہ سے بیان فرمایا۔ گو آپ نے مدت کی تعیین نہیں فرمائی تھی، مگر شدت اشتیاق سے اکثروں کا خیال اس طرف گیا کہ امسال عمرہ میسر ہو گا۔ اور اتفاقًا آپ ﷺ کا قصد بھی عمرہ کا ہو گیا۔ (ب) آپ تقریبًا ڈیڑھ ہزار آدمیوں کو ہمراہ لے کر بغرض عمرہ مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور "ہدی" بھی آپکے ساتھ تھی۔ یہ خبر مکہ پہنچی تو قریش نے بہت سا مجمع کر کے اتفاق کر لیا کہ آپ ﷺ کو مکہ میں نہ آنے دیں گے۔ حالانکہ انکے ہاں حج و عمرہ سے دشمن کو بھی روکا نہیں جاتا تھا۔ بہرحال "حدیبیہ" پہنچ کر جو مکہ سے قریب ہے آپ ﷺ کی اونٹنی بیٹھ گئ اور کسی طرح اٹھنے کا نام نہ لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا حَبَسَھَاحَابِسُ الْفِیْل اور فرمایا کہ خدا کی قسم اہل مکہ مجھ سے جس بات کا مطالبہ کریں گے جس میں حرمات اللہ کی تعظیم قائم رہے میں منظور کروں گا۔ آخر آپ ﷺ نے وہیں قیام فرمایا (اسی مقام کو آج کل "شمیسیّہ" کہتے ہیں)۔ (ج) واقعۂ حدیبیہ: آپ ﷺ نے مکہ والوں کے پاس قاصد بھیجا کہ ہم لڑنے نہیں آئے، ہم کو آنے دو، عمرہ کر کے چلے جائیں گے۔ جب اس کا کچھ جواب نہ ملا تو آپ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کو وہ ہی پیام دے کر بھیجا اور بعض مسلمان مرد و عورت جو مکہ میں مغلوب و مظلوم تھے ان کو بشارت پہنچائی کہ اب عنقریب مکہ میں اسلام غالب ہو جائے گا۔ حضرت عثمانؓ کو قریش نے روک لیا۔ انکی واپسی میں جو دیر لگی یہاں یہ خبر مشہور ہو گئ کہ حضرت عثمانؓ قتل کر دئے گئے۔ اس وقت آپ ﷺ نے اس خیال سے کہ شاید لڑائی کا موقع ہو جائے سب صحابہ سے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر بیعت لی۔ جب قریش نے بیعت کی خبر سنی ڈر گئے اور حضرت عثمانؓ کو واپس بھیج دیا۔ (د) پھر مکہ کے چند رؤسا بغرض صلح آپکی خدمت میں حاضر ہوئے اور صلحنامہ لکھنا قرار پایا۔ اس سلسلہ میں بعض امور پر بحث و تکرار بھی ہوئی اور مسلمانوں کو غصہ اور جوش آیا کہ تلوار سے معاملہ ایک طرف کر دیا جائے لیکن آخر حضور ﷺ نے مکہ والوں کے اصرار کے موافق سب باتیں منظور فرما لیں اور مسلمانوں نے بھی بے انتہا ضبط و تحمل سے کام لیا اور صلحنامہ تیار ہو گیا۔ جس میں ایک شرط کفار کی طرف سے یہ تھی کہ آپ اس سال واپس چلے جائیے اور آئندہ سال غیر مسلح آ کر عمرہ کر لیجئے۔ اور یہ کہ فریقین میں دس سال تک لڑائی نہ ہو گی۔ اس مدت میں جو مرد ہمارے ہاں سے تمہارے پاس جائے اسے آپ اپنے پاس نہ رکھیں۔ اور جو تمہارا آدمی ہمارے ہاں آئے گا ہم واپس نہ کریں گے۔ صلح کا تمام معاملہ طے ہو جانے پر آپﷺ نے "حُدیبیہ" ہی میں ہدی کا جانور ذبح کیا اور حلق و قصر کر کے احرام کھول دیا اور مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ (ہ) راستہ ہی میں یہ یہ سورۃ (الفتح) نازل ہوئی۔ اور یہ سب واقعہ اواخر ۰۶ ھجری میں پیش آیا۔ (و) حدیبیہ سے واپس تشریف لا کر اوائل ۰۷ ھجری میں آپ ﷺ نے خیبر فتح کیا جو مدینہ سے شمالی جانب چار منزل پر شام کی سمت یہود کا ایک شہر تھا۔ اس حملہ میں کوئی شخص ان صحابہ کے علاوہ شریک نہ تھا جو "حدیبیہ" میں آپکے ہمراہ تھے۔ (ز) سال آئندہ یعنی ذیقعدہ ۰۷ ھجری میں آپ حسب معاہدہ عمرۃ القضأ کے لئے تشریف لے گئے اور امن و امان کے ساتھ مکہ پہنچ کرعمرہ ادا فرمایا۔ (ح) عہدنامہ میں جو دس سال تک لڑائی بند رکھنے کی شرط تھی قریش نے نقض عہد کیا۔ آپ ﷺ نے مکہ پر چڑھائی کر دی اور رمضان ۰۸ ھجری میں اسکو فتح کر لیا۔