Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Fath — Ayah 2

48:2
لِّيَغۡفِرَ لَكَ ٱللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنۢبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكَ وَيَهۡدِيَكَ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا ٢
تا معاف کرے تجھ کو اللہ جو آگے ہو چکے تیرے گناہ اور جو پیچھے رہے1 اور پورا کر دے تجھ پر اپنا احسان2 اور چلائے تجھ کو سیدھی راہ3
Footnotes
  • [1] صلح حدیبیہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغمبرانہ طرز عمل:"حُدیبیہ" کی صلح بظاہر ذلت و مغلوبیت کی صلح نظر آتی ہے۔ اور شرائط صلح پڑھ کر بادی النظر میں یہ ہی محسوس ہو تا ہے کہ تمام جھگڑوں کا فیصلہ کفار قریش کے حق میں ہوا۔ چنچہ حضرت عمر اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی صلح کی ظاہری سطح دیکھ کر سخت محزون و مضطرب تھے۔ وہ خیال کرتے تھے کہ اسلام کے چودہ پندرہ سو سرفروش سپاہیوں کے سامنے قریش اور انکے طرفداروں کی جمعیت کیا چیز ہے۔ کیوں تمام نزاعات کا فیصلہ تلوار سے نہیں کر دیاجاتا۔ مگر رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں ان احوال و نتائج کو دیکھ رہی تھیں جو دوسروں کی نگاہوں سے اوجھل تھے اور اللہ نےآپ ﷺ کا سینہ سخت سے سخت ناخوشگوار واقعات پر تحمل کرنے کے لئے کھول دیا تھا۔ آپ بے مثال استغناء اور توکل و تحمل کے ساتھ انکی ہر شرط قبول فرماتے رہے اور اپنے اصحاب کو "اللہ و رسولہ اعلم" کہہ کر تسلی دیتے رہے یعنی اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتا ہے۔ صلح حدیبیہ فتح مبین ہے: تاآنکہ یہ سورۃ نازل ہوئی اورخداوند قدوس نے اس صلح اور فیصلہ کا نام "فتح مبین" رکھا۔ لوگ اس پر بھی تعجب کرتے تھے کہ یا رسول اللہ کیا یہ فتح ہے فرمایا ہاں بہت بڑی فتح۔ حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کی بیعت جہاد اور معمولی چھیڑ چھاڑ کے بعد کفار معاندین کا مرعوب ہو کر صلح کی طرف جھکنا اور نبی کریم ﷺ کا باوجود جنگ اور انتقام پر کافی قدرت رکھنے کے ہر موقع پر اغماض اور عفو درگذر سے کام لینا اور محض تعظیم بیت اللہ کی خاطر انکے بیہودہ مطالبات پرقطعًا برافروختہ نہ ہونا۔ یہ واقعات ایک طرف اللہ کی خصوصی مدد و رحمت کے استجلاب کا ذریعہ بنتے تھے اور دوسری جانب دشمنوں کے قلوب پر اسلام کی اخلاقی و روحانی طاقت اور پیغممر علیہ السلام کی شان پیغمبری کا سکہ بٹھلا رہے تھے۔ گو عہدنامہ لکھتے وقت ظاہر بینوں کو کفار کی جیت نظر آتی تھی۔ لیکن ٹھنڈے دل سے فرصت میں بیٹھ کر غور کرنے والے خوب سمجھتے تھے کہ فی الحقیقت تمام تر فیصلہ حضور ﷺ کے حق میں ہو رہا ہے۔ اللہ تعالٰی نے اس کا نام "فتح مبین" رکھ کر متنبہ کر دیا کہ یہ صلح اس وقت بھی فتح ہے اور آئندہ کے لئے بھی آپ کے حق میں بے شمار فتوحات ظاہری و باطنی کا دروازہ کھولتی ہے۔ صلح کے بہتر نتائج: اس صلح کے بعد کافروں اور مسلمانوں کو باہم اختلاط اور بے تکلف ملنے جلنے کا موقع ہاتھ آیا۔ کفار مسلمانوں کی زبان سے اسلام کی باتیں سنتے اور ان مقدس مسلمانوں کے احوال و اطوار کو دیکھتے تو خود بخود ایک کشش اسلام کی طرف ہوتی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صلح "حدیبیہ" سے فتح مکہ تک یعنی تقریبًا دو سال کی مدت میں اتنی کثرت سے لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے کہ کہ کبھی اس قدر نہ ہوئے تھے حضرت خالد بن الولید اور عمرو بن العاص جیسے نامور صحابہ رضی اللہ عنہم اسی دوران میں اسلام کے حقہ بگوش بنے۔ یہ جسموں کو نہیں ، دلوں کو فتح کر لینا اسی صلح حدیبیہ کی اعظم ترین برکت تھی۔ اب جماعت اسلام چاروں طرف اس قدر پھیل گئ اور اتنی بڑھ گئ تھی کہ مکہ معظمہ کو فتح کر کے ہمیشہ کے لئےشرک کی گندگی سے پاک کر دینا بالکل سہل ہو گیا۔ "حُدیبیہ" میں حضور ﷺ کے ہمراہ صرف ڈیڑھ ہزار جانباز تھے۔ لیکن دو برس کے بعد مکہ معظمہ کی فتح عظیم کے وقت دس ہزار کا لشکر جرار آپ کے ہمرکاب تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ نہ صرف فتح مکہ اور فتح خیبر، بلکہ آئندہ کی کل فتوحات اسلامیہ کے لئے صلح حدیبیہ بطور اساس و بنیاد اور زریں دیباچہ کے تھی۔ اور اس تحمل و توکل اور تعظیم حُرمُات اللہ کی بدولت جو صلح کے سلسلہ میں ظاہر ہوئی۔ جن علوم و معارف قدسیہ اور باطنی مقامات و مراتب کا فتح باب ہوا ہو گا اس کا اندزاہ تو کون کر سکتا ہے۔ ہاں تھوڑا سا اجمالی اشارہ حق تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا ہے۔ یعنی جیسے سلاطین دنیا کسی بہت بڑے فاتح جنرل کو خصوصی اعزاز و اکرام سے نوازتے ہیں۔ صلح کے صلہ میں آنحضرت ﷺ کو خصوصی انعامات: خدا وندقدوس نے اس فتح مبین کے صلہ میں آپ ﷺ کو چار چیزوں سے سرفراز فرمایا۔ جن میں پہلی چیز غفران ذنوب ہے۔ (ہمیشہ سے ہمیشہ تک کی سب کوتاہیاں جو آپ کے مرتبہ رفیع کے اعتبار سے کوتاہی سمجھی جائیں بالکلیۃ معاف ہیں) یہ بات اللہ تعالٰی نے اور کسی بندہ کے لئے نہیں فرمائی۔ مگر حدیث میں آیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد حضور ﷺ اس قدر عبادت اور محنت کرتے تھے کہ راتوں کو کھڑے کھڑے پاؤں سوج جاتے تھے۔ اور لوگوں کو دیکھ کر رحم آتا تھا۔ صحابہ عرض کرتے کہ یا رسول اللہ! آپ اس قدر محنت کیوں کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو آپ ﷺ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما چکا۔ فرماتے اَفَلَا اکُوْنَ عَبْدًا شکُوْرًا (تو کیا میں اس کا شکرگذار بندہ نہ بنوں) ظاہر ہے اللہ تعالیٰ بھی ایسی بشارت اسی بندہ کو سنائیں گے جو سن کر نڈر نہ ہو جائے بلکہ اور زیادہ خدا سے ڈرنے لگے۔ شفاعت کی طویل حدیث میں ہے کہ جب مخلوق جمع ہو کر حضرت مسیحؑ کے پاس جائے گی تو وہ فرمائیں گے کہ محمد ﷺ کے پاس جاؤ جو خاتم النبیین ہیں اور جنکی اگلی پچھلی سب خطائیں اللہ تعالٰی معاف کر چکا ہے (یعنی اس مقام شفاعت میں اگر بالفرض کوئی تقصیر بھی ہو جائے تو وہ بھی عفو عام کے تحت میں پہلے ہی آ چکی ہے) بجز انکے اور کسی کا یہ کام نہیں۔
  • [2] یعنی صرف تقصیرات سے درگذر نہیں بلکہ جو کچھ ظاہری و باطنی اور مادی و روحی انعام و احسان اب تک ہو چکے ہیں انکی پوری تکمیل و تتمیم کی جائے گی۔
  • [3] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی استقامت:یعنی تجھ کو ہدایت و استقامت کی سیدھی راہ پر ہمیشہ قائم رکھے گا۔ معرفت و شہود کے غیر محدود مراتب پر فائز ہونے اور ابدان و قلوب پر اسلام کی حکومت قائم کرنے کی راہ میں تیرے لئے کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو سکے گی۔ لوگ جوق در جوق تیری ہدایت سے اسلام کے سیدھے راستہ پر آئیں گے۔ اور اس طرح تیرے اجوروحسنات کے ذخیرہ میں بیشمار اضافہ ہو گا۔