Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Fath — Ayah 10

48:10
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ ٱللَّهَ يَدُ ٱللَّهِ فَوۡقَ أَيۡدِيهِمۡۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ أَوۡفَىٰ بِمَا عَٰهَدَ عَلَيۡهُ ٱللَّهَ فَسَيُؤۡتِيهِ أَجۡرًا عَظِيمٗا ١٠
تحقیق جو لوگ بیعت کرتے ہیں تجھ سے وہ بیعت کرتے ہیں اللہ سے اللہ کا ہاتھ ہے اوپر اُنکے ہاتھ کے1 پھر جو کوئی قول توڑےسو توڑتا ہے اپنے نقصان کو اور جو کوئی پورا کرے اس چیز کو جس پر اقرار کیا اللہ سے تو وہ اس کو دے گا بدلہ بہت بڑا2
Footnotes
  • [1] بیعت کے عہد کو پورا کرنے کی فضیلت:یعنی بیعت کے وقت جو قول و قرار کیا ہے، اگر کوئی اسکو توڑے گا تو اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اللہ و رسول کو کچھ ضرر نہیں پہنچتا۔ اسی کو عہد شکنی کی سزا ملے گی۔ اور جس نے استقامت دکھلائی اور اپنے عہدوپیمان کو مضبوطی کے ساتھ پورا کیا تو اس کا بدلہ بھی بہت پورا ملے گا۔
  • [2] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر صحابہ کی بیعت کی فضیلت:لوگ حضور ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر بیعت کرتے تھے۔ اس کو فرمایا کہ نبی کےہاتھ پر بیعت کرنا گویا خدا سے بیعت کرنا ہے۔ کیونکہ حقیقت میں نبی خدا ہی کی طرف سے بیعت لیتا ہے اور اسی کے احکام کی تعمیل و تاکید بیعت کے ذریعہ سے کراتا ہے۔ فہذا کما قال مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ (نساء۔۸۰) وکما قال وَ مَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی (انفال۔۱۷) جب بیعت نبوی کی حقیقت یہ ہوئی تو یقینًا خدا تعالٰی کا دست شفقت و حمایت ان کے ہاتھوں کے اوپر ہو گا۔ (تنبیہ) حضور صحابہ سے کبھی اسلام پر کبھی جہاد پر کبھی کسی دوسرے امر خیر پر بیعت لیتے تھے۔ صحیح مسلم میں "وعلی الخیر" کا لفظ آیا ہے۔ مشائخ طریقت کی بیعت اگر بطریق مشروع ہو تو اسی لفظ کے تحت میں مندرج ہو گی۔ "حدیبیہ" میں اس بات پر بیعت لی گئ کہ مرتے دم تک میدان جہاد سے نہیں بھاگیں گے۔