Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Fath — Ayah 11

48:11
سَيَقُولُ لَكَ ٱلۡمُخَلَّفُونَ مِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ شَغَلَتۡنَآ أَمۡوَٰلُنَا وَأَهۡلُونَا فَٱسۡتَغۡفِرۡ لَنَاۚ يَقُولُونَ بِأَلۡسِنَتِهِم مَّا لَيۡسَ فِي قُلُوبِهِمۡۚ قُلۡ فَمَن يَمۡلِكُ لَكُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔا إِنۡ أَرَادَ بِكُمۡ ضَرًّا أَوۡ أَرَادَ بِكُمۡ نَفۡعَۢاۚ بَلۡ كَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرَۢا ١١
اب کہیں گے تجھ سے پیچھے رہ جانے والے گنوار ہم کام میں لگے رہ گئے اپنے مالوں کے اور گھر والوں کے سو ہمارا گناہ بخشوا1 وہ کہتے ہیں اپنی زبان سے جو انکے دل میں نہیں2 تو کہہ کس کا کچھ بس چلتا ہے اللہ سے تمہارے واسطے اگر وہ چاہے تمہارا نقصان یا چاہے تمہارافائدہ بلکہ اللہ ہے تمہارے سب کاموں سے خبردار3
Footnotes
  • [1] منافقین کے حیلے بہانوں کی خبر:مدینہ سے روانہ ہوتے وقت آپ نے اپنی روانگی کا اعلان کر دیا اور مسلمانوں کو ساتھ چلنے کے لئے ابھارا تھا۔ شاید قرائن سے آپ کو بھی لڑائی کا احتمال ہو۔ اس پر دیہاتی گنوار جنکے دلوں میں ایمان راسخ نہ ہوا تھا۔ جان چرا کر بیٹھ رہے اور آپس میں کہنے لگے کہ بھلا ہم ایسی قوم کی طرف جائیں گے جو محمد ﷺ کے گھر (مدینہ) میں آ کر انکے کتنے ساتھیوں کو قتل کر گئ۔ اب ہم اسکے گھر جا کر اس سے لڑیں گے؟ تم دیکھ لینا اب یہ اور انکے ساتھی اس سفر سے واپس آنے والے نہیں سب وہیں کھیت رہیں گے۔ ان آیات میں حق تعالٰی نے انکے نفاق کا پردہ فاش کیا ہے آپکو مدینہ پہنچنے سے قبل راستہ میں بتلا دیا کہ تمہارے صحیح و سالم واپس جانے پر وہ لوگ اپنی غیر حاضری کے جھوٹے عذر اور حیلے بہانے کرتے ہوئے آئیں گے، اور کہیں گے کہ کیا کہئے ہم کو گھر بار کے دھندوں سے فرصت نہ ملی۔ کوئی ہمارے پیچھے مال اور اہل و عیال کی خبر لینے والا نہ تھا۔ بہرحال ہم سے کوتاہی ضرور ہوئی۔ اب اللہ سے ہمارا قصور معاف کرا دیجئے۔
  • [2] یعنی دل میں جانتے ہیں کہ یہ عذر بالکل غلط ہے اور استغفار کی درخواست کرنا بھی محض ظاہرداری کے لئے ہے، سچے دل سے نہیں۔ وہ دل میں اسکو گناہ سمجھتے ہیں نہ آپ پر اعتقاد رکھتے ہیں۔
  • [3] منافقین کو انکے بہانوں کا جواب:یعنی ہر طرح کا نفع و نقصان اللہ کے قبضہ میں ہے جسکی مشیت و ارادہ کے سامنے کسی کا کچھ بس نہیں چلتا اسکو منظور نہیں تھا کہ تم کو اس سفر مبارک کی شرکت کے فوائد نصیب ہوں۔ نہ اب یہ منظور ہے کہ میں تمہارے لئے استغفار کروں اس نے تمہاری حیلہ تراشی سےقبل ہی ہم کو ان جھوٹے اعذار پر مطلع کر دیا تھا۔ بہرحال اس نے ارادہ کر لیا ہے کہ تمہارے اعمال و حرکات کی بدولت "غزوہ حُدیبیہ" کی گوناگوں برکات و فوائد کی طرف سے تم کو نقصان اور گھاٹے میں رکھے۔ اور ہاں تم کہتے ہو کہ اپنے مال اور گھر والوں کی حفاظت کی وجہ سے سفر میں نہ جا سکے، تو کیا خدا اگر تمہارے مال و اولاد وغیرہ میں نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے، تم گھر میں رہ کر اسے روک دو گے۔ یا فرض کرو۔ اللہ تم کو کچھ فائدہ مال و عیال میں پہنچانا چاہے اور تم سفر میں ہو، تو کیا اسے کوئی روک سکتا ہے۔ جب نفع و نقصان کو کوئی روک نہیں سکتا تو اللہ اور اسکے رسول کی خوشنودی کے مقابلہ میں ان چیزوں کی پروا کرنا محض حماقت و ضلالت ہے ان حیلوں بہانوں سے مت سمجھو کہ ہم اللہ کو خوش کر لیں گے۔ بلکہ یاد رکھو اللہ تمہارے سب کھلے چھپے اعمال و احوال کی پوری خبر رکھتا ہے۔