Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Fath — Ayah 27

48:27
لَّقَدۡ صَدَقَ ٱللَّهُ رَسُولَهُ ٱلرُّءۡيَا بِٱلۡحَقِّۖ لَتَدۡخُلُنَّ ٱلۡمَسۡجِدَ ٱلۡحَرَامَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمۡ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَۖ فَعَلِمَ مَا لَمۡ تَعۡلَمُواْ فَجَعَلَ مِن دُونِ ذَٰلِكَ فَتۡحٗا قَرِيبًا ٢٧
اللہ نے سچ دکھلایا اپنے رسول کو خواب تحقیقی کہ تم داخل ہو رہو گے مسجد حرام میں اگر اللہ نے چاہا آرام سے بال مونڈتے ہوئے اپنے سروں کے اور کترتے ہوئے بے کھٹکے1 پھر جانا وہ جو تم نہیں جانتے پھر مقرر کر دی اس سے ورے ایک فتح نزدیک2
Footnotes
  • [1] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب سچا ہوا:ابتدائے سورت میں ذکر ہو چکا ہے کہ مدینہ میں حضور ﷺ نے خواب دیکھا تھا کہ ہم مکہ میں داخل ہوئے اور سر منڈا کر اور بال کتروا کر حلال ہو رہے ہیں۔ ادھر اتفاق سے آپ کا قصد اسی سال عمرہ کا ہو گیا صحابہ نے عمومًا یہ خیا ل جما لیا کہ اسی سال ہم مکہ پہنچیں گے اور عمرہ ادا کریں گے۔ جس وقت صلح مکمل ہو کر حُدیبیہ سے واپسی ہوئی بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہم امن و امان سے مکہ میں داخل ہوں گے اور عمرہ کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ امسال ایسا ہو گا۔ عرض کیا نہیں۔ فرمایا تو بیشک یوں ہی ہو کر رہے گا۔ تم امن و امان سے مکہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف کرو گے اور تم میں سے کوئی سر منڈوا کر کوئی بال کتروا کر احرام کھولے گا اور وہاں جانے کے بعد کسی طرح کا کھٹکا نہ ہو گا۔ چنانچہ حدیبیہ سے اگلے سال یوں ہی ہوا۔ آیۂ ہذا میں اسی کو فرمایا ہے کہ بالتحقیق اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھلایا۔ باقی اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ فرمانا ابن کثیرؒ کے نزدیک باتحقیق و توکید کے لئے ہے اور سیبویہ کے نزدیک اس قسم کے مواقع میں قطعی طور پر ایک چیز کا بتلانا کسی مصلحت سے مقصود نہیں ہوتا اور کرنا منظور ہوتا ہے وہاں یہ عنوان اختیار کرتے ہیں۔
  • [2] تعبیر خواب میں ایک سال کی تاخیر کی مصلحت:یعنی پھر اللہ نے اپنے علم محیط کے موافق واقعات کاسلسلہ قائم کیا۔ وہ جانتا تھا کہ خواب کی تعبیر ایک سال بعد ظاہر کرنے میں کس قدر مصالح ہیں جنکی تمہیں خبر نہیں۔ اس لئے خواب کا وقوع امسال نہ ہونے دیا اور اس کے وقوع سے قبل تم کو لگتے ہاتھ ایک اور فتح عنایت کر دی۔ یعنی فتح خیبر یا صلح حدیبیہ جسے صحابہ فتح مبین کہتےتھے جیسا کہ سورہ ہذا کے پہلے فائدہ میں ہم مفصل لکھ چکے ہیں۔