Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Fath — Ayah 26

48:26
إِذۡ جَعَلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ فَأَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَأَلۡزَمَهُمۡ كَلِمَةَ ٱلتَّقۡوَىٰ وَكَانُوٓاْ أَحَقَّ بِهَا وَأَهۡلَهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٗا ٢٦
جب رکھی منکروں نے اپنے دلوں میں کد نادانی کی ضد پھر اتارا اللہ نے اپنی طرف کا اطمینان اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر 1 اور قائم رکھا انکو ادب کی بات پر اور وہی تھے اسکے لائق اور اس کام کے اور ہے اللہ ہر چیز سے خبردار2
Footnotes
  • [1] اہل مکہ کی نادانی کی ضد:نادانی کی ضد یہ ہی کہ امسال عمرہ نہ کرنے دیا اور یہ کہ جو مسلمان مکہ سےہجرت کر جائے اسے پھر واپس بھیجدو۔ اگلے سال عمرہ کو آؤ تو تین دن سے زیادہ مکہ میں نہ ٹھہرو۔ اور ہتھیار کھلے نہ لاؤ صلح نامہ میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہ لکھو اور بجائے محمد رسول اللہ کے صرف محمد بن عبداللہ تحریر کرو۔ حضرت نے یہ سب باتیں قبول کیں اور مسلمانوں نے سخت انقباض و اضطراب کے باوجود پیغمبر کے ارشاد کے آگے سر تسلیم جھکا دیا اور بالآخر اسی فیصلہ پر انکے قلوب مطمئن ہو گئے۔
  • [2] مسلمانوں کی اطاعت اور ادب:یعنی اللہ سے ڈر کر نافرمانی کی راہ سے بچے اور کعبہ کے ادب پر مضبوطی سے قائم رہے۔ اور کیوں نہ رہتے۔ وہ دنیا میں خدائے واحد کے سچے پرستار اور کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کے زبردست حامل تھے ایک پکا موحد اور پیغمبر کا مطیع و وفادار ہی اپنے جذبات و رجحانات کو عین جوش و خروش کے وقت اللہ کی خوشنودی اور اس کے شعائر کی تعظیم پر قربان کر سکتا ہے۔ حقیقی توحید یہ ہی ہے کہ آدمی اس اکیلے مالک کا حکم سن کر اپنی ذلت و عزت کے سب خیالات بالائے طاق رکھ دے شاید اسی لئے حدیث میں "کلمہ التقوی" کی تفیسر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ سے کی گئ ہے۔ کیونکہ تمام تر تقوٰی و طہارت کی بنیاد یہ ہی کلمہ ہے۔ جس کے اٹھانے اور حق ادا کرنے کے لئے اللہ تعالٰی نے اصحاب رسول ﷺ کو چن لیا تھا۔ اور بلاشبہ اللہ کے علم میں وہ ہی اسکے مستحق اور اہل تھے۔