Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Fath — Ayah 25

48:25
هُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّوكُمۡ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ وَٱلۡهَدۡيَ مَعۡكُوفًا أَن يَبۡلُغَ مَحِلَّهُۥۚ وَلَوۡلَا رِجَالٞ مُّؤۡمِنُونَ وَنِسَآءٞ مُّؤۡمِنَٰتٞ لَّمۡ تَعۡلَمُوهُمۡ أَن تَطَـُٔوهُمۡ فَتُصِيبَكُم مِّنۡهُم مَّعَرَّةُۢ بِغَيۡرِ عِلۡمٖۖ لِّيُدۡخِلَ ٱللَّهُ فِي رَحۡمَتِهِۦ مَن يَشَآءُۚ لَوۡ تَزَيَّلُواْ لَعَذَّبۡنَا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡهُمۡ عَذَابًا أَلِيمًا ٢٥
یہ وہی لوگ ہیں جو منکر ہوئے اور روکا تم کو مسجد حرام سے اور نیاز کی قربانی کو بھی بند پڑی ہوئی اس بات سے کہ پہنچے اپنی جگہ تک1 اور اگر نہ ہوتے کتنے ایک مرد ایمان والے اور کتنی عورتیں ایمان والیاں جو تم کو معلوم نہیں یہ خطرہ کہ تم انکو پیس ڈالتے پھر تم پر انکی وجہ سے خرابی پڑ جاتی بیخبری سےکہ اللہ کو داخل کرنا ہے اپنی رحمت میں جسکو چاہے2 اگر وہ لوگ ایک طرف ہو جاتے تو آفت ڈالتے ہم منکروں پر عذاب دردناک کی3
Footnotes
  • [1] کفار کا قربانی کے جانوروں کو روکنا:یعنی حرم کے اس حصہ تک قربانی کے جانور پہنچنے نہ دیے جہاں لیجا کر ذبح کرنے کا عام دستور اور معمول ہے۔ "حُدیبیہ" ہی میں رکے پڑے رہے۔
  • [2] مکہ میں رہنے والے مسلمانوں کی برکت:یعنی اگر کفار مسلمانوں سے الگ ہوتے اور مسلمان ان میں رلے ملے نہ ہوتے تو تم دیکھ لیتے کہ ہم مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کو کیسی دردناک سزا دلواتے ہیں۔
  • [3] حدیبیہ کے وقت جنگ ملتوی رکھنے کی مصلحت:یعنی کچھ مسلمان مرد و عورت جو مکہ میں مظلوم و مقہور تھے اور مسلمان انکو پوری طرح جانتے نہ تھے وہ لڑائی میں بے خبری سے پیس دیے جائیں گے۔ اگر یہ خطرہ نہ ہوتا تو فی الحال لڑائی کا حکم دیدیا جاتا۔ لیکن ایسا ہوتا تو تم خود اس قومی نقصان پر متاسف ہوتے۔ اور کافروں کو یہ کہنے کا موقع ملتا کہ دیکھو! مسلمان مسلمانوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ اس خرابی کے باعث لڑائی موقوف رکھی گئ تا وہ مسلمان محفوظ رہیں۔ اور تم پر اس بےمثال صبر و تحمل کی بدولت خدا اپنی رحمت نازل فرمائے۔ نیز کافروں میں سے جن لوگوں کا اسلام لانا مقدر ہے انکو بھی لڑائی کی خطرناک گڑبڑ سے بچا کر اپنی رحمت میں داخل کر لے۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "اس تمام قصے میں ساری ضد اور کعبہ کی بے ادبی ان ہی (مشرکین) سے ہوئی۔ تم باادب رہے۔ انہوں نے عمرہ والوں کو منع کیا اور قربانی اپنے ٹھکانے پر نہ پہنچنے دی۔ بیشک وہ جگہ اس قابل تھی کہ اسی وقت تمہارے ہاتھ سے فتح کرائی جاتی، مگر بعض مسلمان مردوزن مکہ میں چھپے ہوئے تھے اور بعض لوگ جن کا مسلمان ہونا اب مقدر تھا، اس وقت کی فتح مکہ میں وہ پیسے جاتے آخر دو برس کی صلح میں جتنے مسلمان ہونے کو تھے ہو چکے اور نکلنے والے نکل آئے تب اللہ نے مکہ فتح کرا دیا"۔