Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Fath — Ayah 29

48:29
مُّحَمَّدٞ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡۖ تَرَىٰهُمۡ رُكَّعٗا سُجَّدٗا يَبۡتَغُونَ فَضۡلٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٗاۖ سِيمَاهُمۡ فِي وُجُوهِهِم مِّنۡ أَثَرِ ٱلسُّجُودِۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِۚ وَمَثَلُهُمۡ فِي ٱلۡإِنجِيلِ كَزَرۡعٍ أَخۡرَجَ شَطۡـَٔهُۥ فَـَٔازَرَهُۥ فَٱسۡتَغۡلَظَ فَٱسۡتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِۦ يُعۡجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ ٱلۡكُفَّارَۗ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِنۡهُم مَّغۡفِرَةٗ وَأَجۡرًا عَظِيمَۢا ٢٩
محمد رسول اللہ کا اور جو لوگ اسکے ساتھ ہیں زورآور ہیں کافروں پر1 نرم دل ہیں آپس میں2 تو دیکھے ان کو رکوع میں اور سجدہ میں ڈھونڈتے ہیں اللہ کا فضل اور اسکی خوشی3 نشانی اُنکی اُنکے منہ پر ہے سجدہ کے اثر سے4 یہ شان ہے انکی تورات میں اور مثال انکی انجیل میں5 جیسے کھیتی نے نکالا اپنا پٹھا پھر اُسکی کمر مضبوط کی پھر موٹا ہوا پھر کھڑا ہو گیا اپنی نال پر6 خوش لگتا ہے کھیتی والوں کو7 تاکہ جلائے ان سے جی کافروں کا8 وعدہ کیا ہے اللہ نے ان سے جو یقین لائے ہیں اور کئے ہیں بھلے کام معافی کا اور بڑے ثواب کا9
Footnotes
  • [1] کھیتی کی مثال اور صحابہ کرامؓ:حضرت شاہ صاحبؒ کھیتی کی مثال کی تقریر کرتے ہوئے لکھتے ہیں "یعنی اول اس دین پر ایک آدمی تھا پھر دو ہوئے پھر آہستہ آہستہ قوت بڑھتی گئ حضرت کے وقت میں پھر خلفاء کے عہد میں "بعض علماء کہتے ہیں کہ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ میں عہد صدیقی فَاٰزَرَہٗ میں عہد فاروقی فَاسْتَغْلَظَ میں عہد عثمانی اور فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ میں عہد مرتضوی کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ بعض دوسرے بزرگوں نے وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ تَرٰىہُمۡ رُکَّعًا سُجَّدًا کو علی الترتیب خلفائے اربعہ پر تقسیم کر دیا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ یہ آیت تمام جماعت صحابہؓ کی بہیات مجموعی مدح و منقبت پر مشتمل ہے۔ خصوصًا اصحاب بیعت الرضوان کی جن کا ذکر آغاز سورت سے برابر چلا آ رہا ہے۔ واللہ اعلم۔
  • [2] کھیتی کرنے والے چونکہ اس کام کے مبصر ہوتے ہیں اس لئے ان کا ذکرخصوصیت سے کیا۔ جب ایک چیز کا مبصر اسکو پسند کرے دوسرے کیوں نہ کریں گے۔
  • [3] صحابہؓ سے حسد رکھنے والے:یعنی اسلامی کھیتی کی یہ تازگی اور رونق و بہار دیکھ کر کافروں کے دل غیظ و حسد سے جلتے ہیں۔ اس آیت سے بعض علماء نے یہ نکالا کہ صحابہ سے جلنے والا کافر ہے۔
  • [4] مومنین سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ:حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یہ وعدہ دیا انکو جو ایمان والے ہیں اور بھلے کام کرتےہیں۔ حضرت کے سب اصحاب ایسے ہی تھے۔ مگر خاتمہ کااندیشہ رکھا۔ حق تعالٰی بندوں کو ایسی صاف خوشخبری نہیں دیتا کہ نڈر ہو جائیں اس مالک سے اتنی شاباشی بھی غنیمت ہے"۔ تم سورۃ الفتح بفضل اللہ و رحمۃ فللہ الحمد والمنہ۔
  • [5] آپس میں نرم دل ہیں:یعنی اپنے بھائیوں کے ہمدرد و مہربان، اُنکے سامنے نرمی سے جھکنے والے اور تواضع و انکسار سے پیش آنے والے "حدیبیہ" میں صحابہ کی یہ دونوں شانیں چمک رہی تھیں۔ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ ۔
  • [6] صحابہ کرامؓ کے صفات حَسنہ:یعنی نمازیں کثرت سے پڑھتے ہیں۔ جب دیکھو رکوع و سجود میں پڑے ہوئے اللہ کے سامنے نہایت اخلاص کے ساتھ وظیفہ عبودیت ادا کر رہے ہیں۔ ریاء و نمود کا شائبہ نہیں۔ بس اللہ کے فضل اور اسکی خوشنودی کی تلاش ہے۔
  • [7] یعنی نمازوں کی پابندی خصوصًٓا تجہد کی نماز سے انکے چہروں پر خاص قسم کا نور اور رونق ہے۔گویا خشیت و خشوع اور حسن نیت و اخلاص کی شعاعیں باطن سے پھوٹ پھوٹ کر ظاہر کو روشن کر رہی ہیں۔ حضرت کے اصحاب اپنے چہروں کے نور اور متقیانہ چال ڈھال سے لوگوں میں الگ پہچانے جاتے تھے۔
  • [8] صحابہ کرامؓ کا پچھلی کتابوں میں تذکرہ:یعنی پہلی کتابوں میں خاتم الانبیاء ﷺ کے ساتھیوں کی ایسی ہی شان بیان کی گئ تھی۔ چنانچہ بہت سے غیر متعصب اہل کتاب انکے چہرے اور طور و طریق دیکھ کر بول اٹھتے تھے کہ واللہ یہ تو مسیحؑ کے حواری معلوم ہوتے ہیں۔
  • [9] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کفار پر سخت ہیں:یعنی کافروں کے مقابلہ میں سخت مضبوط اور قوی، جس سے کافروں پر رعب پڑتا اور کفر سے نفرت و بیزاری کا اظہار ہوتا ہے۔ قال تعالٰی وَ لۡیَجِدُوۡا فِیۡکُمۡ غِلۡظَۃً (توبہ۔۱۲۳) وَ اغۡلُظۡ عَلَیۡہِمۡ (توبہ۔۷۳) وقال تعالٰی اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ (المائدہ۔۵۴) حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "جو تندی اور نرمی اپنی خو ہو وہ سب جگہ برابر چلے اور جو ایمان سے سنور کر آئے وہ تندی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ" علماء نے لکھا ہے کہ کسی کافر کے ساتھ احسان اور سلوک سے پیش آنا اگر مصلحت شرعی ہو۔ کچھ مضائقہ نہیں۔ مگر دین کے معاملہ میں وہ تم کو ڈھیلا نہ سمجھے۔