Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hujurat — Ayah 1

49:1
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيِ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ١
اے ایمان والو آگے نہ بڑھو اللہ سے اور اسکے رسول سے1 اور ڈرتے رہو اللہ سے اللہ سنتا ہے جانتا ہے2
Footnotes
  • [1] بغیر تقویٰ کے اطاعت نہیں ہو سکتی:یعنی اللہ و رسول کی سچی فرمانبرداری اور تعظیم اسی وقت میسر ہو سکتی ہے جب خدا کا خوف دل میں ہو۔ اگر دل میں ڈر نہیں تو بظاہر دعوائے اسلام کو نباہنے کے لئے اللہ و رسول کا نام باربار زبان پر لائے گا اور بظاہر انکے احکام کو آگے رکھے گا۔ لیکن فی الحقیقیت انکو اپنی اندرونی خواہشات و اغراض کی تحصیل کے لئے ایک حیلہ اور آلہ کار بنائے گا۔ سو یاد رہے کہ جو زبان پر ہے اللہ اسے سنتا ہے اور جو دل میں ہے اسے جانتا ہے ۔ پھر اس کے سامنے یہ فریب کیسے چلے گا چاہئے کہ آدمی اس سے ڈر کر کام کرے۔
  • [2] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آداب و حقوق:یعنی جس معاملہ میں اللہ و رسول کی طرف سے حکم ملنے کی توقع ہو۔ اس کا فیصلہ پہلے ہی آگے بڑھ کر اپنی رائے سے نہ کر بیٹھو۔ بلکہ حکم الٰہی کا انتظار کرو۔ جس وقت پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کچھ ارشاد فرمائیں خاموشی سے کان لگا کر سنو۔ ان کے بولنے سے پہلے خود بولنے کی جرأت نہ کرو۔ جو حکم ادھر سے ملے اس پر بے چون چران اور بلا پس و پیش عامل بن جاؤ۔ اپنی اغراض اور اہواء و آراء کو انکے احکام پر مقدم نہ رکھو۔ بلکہ اپنی خواہشات و جذبات کو احکام سماوی کے تابع بناؤ۔ (تنبیہ) اس سورت میں مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کے آداب و حقوق اور اپنے بھائی مسلمانوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم رکھنے کے طریقے سکھلائے ہیں۔ اور یہ کہ مسلمانوں کا جماعتی نظام کن اصول پر کاربند ہونے سے مضبوط و مستحکم رہ سکتا ہے اور اگر کبھی اس میں خرابی اور اختلال پیدا ہو تو اس کا علاج کیا ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ بیشتر نزاعات و مناقشات خودرائی اور غرض پرستی کے ماتحت وقوع پذیر ہوتے ہیں جس کا واحد علاج یہ ہے کہ مسلمان اپنی شخصی رایوں اور غرضوں کو کسی ایک بلند معیار کے تابع کر دیں۔ ظاہر ہے کہ اللہ و رسول کے ارشادات سے بلند کوئی معیار نہیں ہو سکتا۔ ایسا کرنے میں خواہ وقتی اور عارضی طور پر کتنی ہی تکلیف اٹھانی پڑے لیکن اس کا آخری انجام یقینی طور پر دارین کی سرخروئی اور کامیابی ہے۔