Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Fath — Ayah 4

48:4
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ لِيَزۡدَادُوٓاْ إِيمَٰنٗا مَّعَ إِيمَٰنِهِمۡۗ وَلِلَّهِ جُنُودُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا ٤
وہی ہے جس نے اتارا اطمینان دل میں ایمان والوں کے تاکہ اور بڑھ جائے انکو ایمان اپنے ایمان کے ساتھ1 اور اللہ کے ہیں سب لشکر آسمانوں کے اور زمین کے اور اللہ ہے خبردار حکمت والا2
Footnotes
  • [1] صحابہ کرام کے ایمان میں زیادتی:اطمینان اتارا۔ یعنی باوجود خلاف طبع ہونے کے رسول کے حکم پر جمے رہے۔ ضدی کافروں کے ساتھ ضد نہیں کرنے لگے۔ اسکی برکت سے انکے ایمان کا درجہ بڑھا اور مراتب عرفان و ایقان میں ترقی ہوئی۔ انہوں نے اول بیعت جہاد کر کے ثابت کر دیا تھا کہ ہم اللہ کی راہ میں لڑنے مرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ ایمان کا ایک رنگ تھا اسکے بعد جب پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مسلمانوں کے جذبات کے خلاف اللہ کے حکم سے صلح منظور کر لی تو انکے ایمان کا دوسرا رنگ یہ تھا کہ اپنے پرجوش جذبات و عواطف کو زور سے دبا کر اللہ و رسول کے فیصلہ کے آگے گردن انقیاد خم کر دی۔ رضی اللہ عنہم و رضواعنہ۔
  • [2] زمین و آسمان کے لشکر:یعنی وہ ہی جانتا ہے کہ کس وقت قتال کا حکم دینا تمہارے لئے مصلحت ہے اور کس موقع پر قتال سے باز رکھنا اور صلح کرنا حکمت ہے۔ تم کو اگر قتال کا حکم ہو تو کبھی کفار کی کثرت کا خیال کر کے پس و پیش نہ کرنا کیونکہ آسمان و زمین کے لشکروں کا مالک وہ ہی ہے جو تمہاری قلت کے باوجود اپنے غیبی لشکروں سے مدد کر سکتا ہے۔ جیسے "بدر" "احزاب" اور "حنین" وغیرہ میں کی۔ اور اگر صلح کرنے اور قتال سے رکنے کا حکم دے تو اُسی کی تعمیل کرو۔ یہ خیال نہ کرنا کہ افسوس صلح ہو گئ اور کفار بچ نکلے انکو سزا نہ ملی اگر قتال کا حکم ہو جاتا تو ہم انکو ہلاک کر ڈالتے۔ کیونکہ ان کا ہلاک ہونا کچھ تم پر موقوف نہیں۔ ہم چاہیں تو اپنے دوسرے لشکروں سے ہلاک کر سکتے ہیں۔ بہرحال زمین و آسمان کے لشکروں کا مالک اگر صلح کا حکم دے گا تو ضرور اسی میں بہتری اور حکمت ہو گی۔