Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hujurat — Ayah 13

49:13
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقۡنَٰكُم مِّن ذَكَرٖ وَأُنثَىٰ وَجَعَلۡنَٰكُمۡ شُعُوبٗا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓاْۚ إِنَّ أَكۡرَمَكُمۡ عِندَ ٱللَّهِ أَتۡقَىٰكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٞ ١٣
اے آدمیو ہم نے تم کو بنایا ایک مرد اور ایک عورت سےاور رکھیں تمہاری ذاتیں اور قبیلے تاکہ آپس کی پہچان ہو تحقیق عزت اللہ کے یہاں اسکی کو بڑی جسکو ادب بڑا1 اللہ سب کچھ جانتا ہے خبردار2
Footnotes
  • [1] یعنی تقویٰ اور ادب اصل میں دل سے ہے۔ اللہ ہی کو خبر ہے کہ جو شخص ظاہر میں متقی اور مؤدب نظر آتا ہے وہ واقع میں کیسا اور آئندہ کیسا رہے۔ انما العبرۃ للخواتیم۔
  • [2] خاندانی اور نسبی اختلافات کی حقیقت:اکثر غیبت، طعن و تشنیع اور عیب جوئی کا منشاء کبر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے کو بڑا اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، اس کو بتلاتے ہیں کہ اصل میں انسان کا بڑا چھوٹا یا معزز و حقیر ہونا ذات پات اور خاندان و نسب سے تعلق نہیں رکھتا۔ اسلام کی فضیلت کا معیار: بلکہ جو شخص جس قدر نیک خصلت، مؤدب اور پرہیزگار ہو اسی قدر اللہ کے ہاں معزز و مکرم ہے۔ نسب کی حقیقت تو یہ ہے کہ سارے آدمی ایک مرد اور ایک عورت یعنی آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ شیخ، سید، مغل، پٹھان اور صدیقی، فاروقی، عثمانی، انصاری سب کا سلسلہ آدم و حوا پر منتہی ہوتا ہے۔ یہ ذاتیں اور خاندان اللہ تعالٰی نے محض تعارف اور شناخت کے لئے مقرر کئے ہیں۔ بلاشبہ جس کو حق تعالٰی کسی شریف اور بزرگ و معزز گھرانے میں پیدا کر دے وہ ایک موہوب شرف ہے، جیسے کسی کو خوبصورت بنا دیا جائے، لیکن یہ چیز ناز اور فخر کرنے کے لائق نہیں کہ اسی کو معیار کمال اور فضیلت کا ٹھہرا لیا جائے اور دوسروں کو حقیر سمجھا جائے ہاں شکر کرنا چاہئے کہ اس نے بلا اختیار و کسب ہم کو یہ نعمت مرحمت فرمائی۔ شکر میں یہ بھی داخل ہے کہ غرور و تفاخر سے باز رہے اور اس نعمت کو کمینہ اخلاق اور بری خصلتوں سے خراب نہ ہونے دے۔ بہرحال مجدد شرف اور فضیلت و عزت کا اصلی معیار نسب نہیں تقویٰ و طہارت ہے اور متقی آدمی دوسروں کو حقیر کب سمجھے گا؟