Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hujurat — Ayah 14

49:14
۞ قَالَتِ ٱلۡأَعۡرَابُ ءَامَنَّاۖ قُل لَّمۡ تُؤۡمِنُواْ وَلَٰكِن قُولُوٓاْ أَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا يَدۡخُلِ ٱلۡإِيمَٰنُ فِي قُلُوبِكُمۡۖ وَإِن تُطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَا يَلِتۡكُم مِّنۡ أَعۡمَٰلِكُمۡ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ ١٤
کہتے ہیں گنوار کہ ہم ایمان لائے تو کہہ تم ایما ن نہیں لائے پر تم کہو ہم مسلمان ہوئے اور ابھی نہیں گھُسا ایمان تمہارے دلوں میں1 اور اگر ھم پر چلو گے اللہ کے اور اسکے رسول کے کاٹ نہ لے گا تمہارے کاموں میں سے کچھ اللہ بخشتا ہے مہربان ہے۔2
Footnotes
  • [1] ایمان اور اسلام کا فرق:یہاں یہ بتلاتےہیں کہ ایمان و یقین جب پوری طرح دل میں راسخ ہو جائے اور جڑ پکڑ لے اس وقت غیبت اور عیب جوئی وغیرہ کی خصلتیں آدمی سے دور ہو جاتی ہیں۔ جو شخص دوسروں کے عیب ڈھونڈھنے اور آزار پہنچانے میں مبتلا ہو، سمجھ لو ابھی تک ایمان اسکے دل میں پوری طرح پیوست نہیں ہوا ایک حدیث میں ہے ۔ یَامَعْشَرَ مَنْ اٰمَنَ بِلِسَانِہٖ وَلَمْ یُفْضِ الْاِیْمَانُ اِلٰی قَلْبِہٖ لَا تَغْتَابُو الْمُسْلِمِیْنَ وَلَا تَتَّبِعُوْا عَوْرَاتِھِمْ الخ (ابن کثیر ۸۔۲۴) حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "ایک کہتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں یعنی دین مسلمانی ہم نے قبول کیا۔ اسکا مضائقہ نہیں۔ اور ایک کہتا ہے کہ ہم کو پورا یقین ہے جو یقین پورا ہے تو اس کے آثار کہاں؟ جسکو واقعی پورا یقین حاصل ہو وہ تو ایسے دعوے کرنے سے ڈرتا اور شرماتا ہے (تنبیہ) اس آیت سے ایمان و اسلام کا فرق ظاہر ہوتا ہے اور یہ ہی بات حدیث جبریل وغیرہ سے ثابت ہوئی ہے۔ ہم نے شرح صحیح مسلم میں اس موضوع پر کافی بحث کی ہے۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں۔
  • [2] یعنی اب بھی اگر فرمانبرداری کا راستہ اختیار کرو گے تو پچھلی کمزوریوں کی وجہ سے تمہارے کسی عمل کے ثواب میں کمی نہ کرے گا۔