Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah An-Najm — Ayah 16

53:16
إِذۡ يَغۡشَى ٱلسِّدۡرَةَ مَا يَغۡشَىٰ ١٦
جب چھا رہا تھا اُس بیری پر جو کچھ چھا رہا تھا1
Footnotes
  • [1] معراج میں سدرۃ المنتہٰی پر فرشتوں کا ہجوم:یعنی حق تعالیٰ کے انواروتجلیات اس درخت پر چھا رہے تھے۔ اور فرشتوں کی کثرت و ہجوم کا یہ عالم تھا کہ ہر پتے کے ساتھ ایک فرشتہ نظر آتا تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ مَایَغْشٰی سنہری پروانے تھے۔ یعنی نہایت خوش رنگ جنکے دیکھے سے دل کھنچا جائے۔ اس وقت درخت کی بہار اور رونق اور اس کا حسن و جمال ایسا تھا کہ کسی مخلوق کی طاقت نہیں کہ لفظوں میں بیان کرسکے۔ معراج میں رؤیت باری تعالٰی کا مسئلہ: شاید ابن عباسؓ وغیرہ کے قول کے موافق معراج میں جو اللہ کا دیدار حضور ﷺ کو ہوا اس کا بیان اسی آیت کے ابہام میں منطوی و مندرج ہو۔ کیونکہ پہلی آیتوں کے متعلق تو عائشہ صدیقہؓ کی احادیث میں تصریح ہے کہ ان سے رؤیت رب مرد نہیں۔ محض رویت جبریل مراد ہے۔ ابن کثیرؒ نے مجاہدؒ سے جو ابن عباسؓ کے اخص اصحاب میں سے ہیں اسی آیت کے تحت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ کَانَ اَغْصَانُ السِّدْرَۃِ لُؤلُؤًا وَیَاقُوْتًا وَ زَبَرْجَدًا فَرَأَھَا مُحَمَّدٌ ﷺ وَرَأی رَبَّہٗ بِقَلْبِہٖ ۔ اور یہ رؤیت چونکہ صرف قلب سے نہ تھی بلکہ قلب اور بصر دونوں کو دیدار سے حصہ مل رہا تھا جیسا کہ مَازَاغَ الْبَصَرُ سے ظاہر ہوتا ہے۔ شاید اسی لئے ابن عباسؓ نے طبرانی کی بعض روایات میں فرمایا رَأَہ مَرَّتَیْنَ مَرَّۃً بِقَلْبِہٖ وَ مَرَّۃً بِبَصَرِہٖ یہاں دومرتبہ دیکھنے کا مطلب یہ ہو کہ ایک ہی وقت میں دو طرح دیکھا۔ کَمَا قَالُوْا فِیْ حَدِیْثٍ اِنْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَکَّۃَ مَرَّتَیْن ظاہری آنکھ سے بھی اور دل کی آنکھوں سے بھی لیکن یاد رہے کہ یہ رؤیت وہ نہیں جس کی نفی لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ (انعام۔۱۰۳) میں کی گئ ہے کیونکہ اس سے غرض احاطہ کی نفی کرنا ہے۔ یعنی نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں۔ رؤیت باری تعالٰی پر ایک اشکال کا جواب: علاوہ بریں ابن عباسؓ سے جب سوال کیا گیا کہ دعویٰ رؤیت آیت لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ کے مخالف ہے تو فرمایا وَیْحَکَ ذَاکَ اِذَا تَجَلّٰی بِنُوْرِہِ الَّذِیْ ھُوَنُوْرُہٗ (رواہ الترمذی) معلوم ہوا کہ خداوند قدوس کی تجلیات و انورا متفاوت ہیں۔ بعض انوار قاہرہ للبصر ہیں بعض نہیں۔ اور رؤیت رب فی الجملہ دونوں درجوں پر صادق آتی ہے۔ اور اسی لئے کہا جاسکتا ہے کہ جس درجہ کی رؤیت مومنین کو آخرت میں نصیب ہوگی جبکہ نگاہیں تیز کردی جائیں گی جو اس تجلی کو برداشت کرسکیں۔ وہ دنیا میں کسی کو حاصل نہیں۔ ہاں ایک خاص درجہ کی رؤیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو شبِ معراج میں ابن عباسؓ کی روایت کے موافق میسر ہوئی۔ اور اس خصوصیت میں کوئی بشر آپﷺ کا شریک و سہیم نہیں۔ نیز ان ہی انوارو تجلیات کے تفاوت و تنوع پر نظر کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اقوال میں کوئی تعارض نہیں۔ شاید وہ نفی ایک درجہ میں کرتی ہوں اور یہ اثبات دوسرے درجہ میں کررہے ہوں۔ اور اسی طرح ابوذرؓ کی روایات رَأیْتُ نُوْرًا اور نُوْرٌ اَنّٰی اَرَاہُ میں تطبیق ممکن ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔