Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hadid — Ayah 20

57:20
ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا لَعِبٞ وَلَهۡوٞ وَزِينَةٞ وَتَفَاخُرُۢ بَيۡنَكُمۡ وَتَكَاثُرٞ فِي ٱلۡأَمۡوَٰلِ وَٱلۡأَوۡلَٰدِۖ كَمَثَلِ غَيۡثٍ أَعۡجَبَ ٱلۡكُفَّارَ نَبَاتُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصۡفَرّٗا ثُمَّ يَكُونُ حُطَٰمٗاۖ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابٞ شَدِيدٞ وَمَغۡفِرَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٞۚ وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلۡغُرُورِ ٢٠
جان رکھو کہ دنیا کی زندگانی یہی ہے کھیل اور تماشا اور بناؤ اور بڑائیاں کرنی آپس میں اور بہتایت ڈھونڈنی مال کی اور اولاد کی جیسے حالت ایک مینہ کی جو خوش لگا کسانوں کو اُس کا سبزہ پھر زور پر آتا ہے پھر تو دیکھے زرد ہو گیا پھر ہو جاتا ہے روندا ہوا گھاس اور آخرت میں سخب عذاب ہے اور معافی بھی ہے اللہ سے اور رضامندی اور دنیا کی زندگانی تو یہی ہے مال دغا کا1
Footnotes
  • [1] حیات دنیوی کی مثال:آدمی کو اول عمر میں کھیل چاہئے، پھر تماشا، پھر بناؤ سنگار (اور فیشن) پھر ساکھ بڑھانا اور نام و نمود حاصل کرنا پھر موت کے دن قریب آئیں تو مال و الاد کی فکر کہ پیچھے میرا گھر بار بنا رہے اور اولاد آسودگی سے بسر کرے۔ مگر یہ سب ٹھاٹھ سامان فانی اور زائل ہیں ۔ جیسے کھیت کی رونق و بہار چند روزہ ہوتی ہے پھر زرد پڑ جاتی ہے اور آدمی اور جانور اسکو روند کرچورا کر دیتے ہیں۔ اس شادابی اور خوبصوری کا نام و نشان نہیں رہتا۔ یہ ہی حال دنیا کی زندگانی اور اسکے سازوسامان کو سمجھو کہ وہ فی الحقیقت ایک دغا کی پونجی اور دھوکے کی ٹٹی ہے۔ آدمی اسکی عارضی بہار سے فریب کھا کر اپنا انجام تباہ کر لیتا ہے۔ حالانکہ موت کے بعد یہ چیزیں کام آنے والی نہیں۔ وہاں کچھ اور ہی کام آئے گا۔ یعنی ایمان اور عمل صالح۔ جو شخص دنیا سے یہ چیز کما کر لے گیا، سمجھو بیڑا پار ہے۔ آخرت میں اسکے لئے مالک کی خوشنودی و رضامندی اور جو دولت ایمان سے تہی دست رہا اور کفر و عصیان کا بوجھ لے کر پہنچا اسکے لئے سخت عذاب۔ اور جس نے ایمان کے باوجود اعمال میں کوتاہی کی اسکے لئے جلد یا بدیر دھکے مکے کھا کرمعافی ہے۔ دنیا کا خلاصہ وہ تھا آخرت کا یہ ہوا۔