اور جو لوگ یقین لائے اللہ پر اور اُسکے سب رسولوں پر وہی ہیں سچے ایمان والے اور لوگوں کا احوال بتلانے والے اپنے رب کے پاس اُنکے واسطے ہے اُں کا ثواب اور اُنکی روشنی1 اور جو لوگ منکر ہوئے اور جھٹلایا ہماری باتوں کو وہ ہیں دوزخ کے لوگ2
Footnotes
[1]سچے ایمان والوں کی شہادت:مترجم محققؒ نے بظاہر "الشہداء" کا عطف "الصّدیقون" پر مانا ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ پر اور اس کے سب رسولوں پر پوری طرح یقین لائے (اور اس یقین کا اثر ان کے اعمال و احوال میں ظاہر ہونا چاہیئے) تو سچے اور پکے ایماندار یہ ہی ہیں۔ اور اللہ کے ہاں یہ ہی حضرات بطور گواہ کے دوسرے لوگوں کا حال بتلائیں گے۔ کماقال وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ۔ (بقرۃ۔۱۴۳) آخرت میں ان سچے ایمان داروں کو اپنے اپنے عمل اور درجہ ایمان کے موافق ثواب اور روشنی عطا ہوگی (آیت کی تفسیر اور بھی کئ طرح کی گئ ہے مگر رعایت اختصار ان کے نقل کی اجازت نہیں دیتی۔)