یا زیادہ کر اُس پر1 اور کھول کھول کر پڑھ قرآن کو صاف2
Footnotes
[1]قیام لیل کا حکم:یعنی آدھی رات سے کچھ کم جو تہائی تک پہنچ سکتی ہے یا آدھی سے زیادہ جو دوتہائی تک ہو۔ بقرینہ قولہ تعالیٰ فیما بعد اِنَّ رَبَّکَ یَعۡلَمُ اَنَّکَ تَقُوۡمُ اَدۡنٰی مِنۡ ثُلُثَیِ الَّیۡلِ وَ نِصۡفَہٗ وَ ثُلُثَہٗ الخ۔
[2]تلاوت میں ترتیل کا حکم:یعنی تہجد میں قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کہ ایک ایک حرف صاف سمجھ میں آجائے۔ اس طرح پڑھنے سے فہم وتدبّر میں مدد ملتی ہے اور دل پر اثر زیادہ ہوتا ہے۔ اور ذوق وشوق بڑھتا ہے۔
Loading…
Licence
We don’t have copyright information for this resource.