Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hadid — Ayah 25

57:25
لَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَأَنزَلۡنَا مَعَهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡمِيزَانَ لِيَقُومَ ٱلنَّاسُ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَأَنزَلۡنَا ٱلۡحَدِيدَ فِيهِ بَأۡسٞ شَدِيدٞ وَمَنَٰفِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعۡلَمَ ٱللَّهُ مَن يَنصُرُهُۥ وَرُسُلَهُۥ بِٱلۡغَيۡبِۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٞ ٢٥
ہم نے بھیجے ہیں اپنے رسول نشانیاں دیکر اور اتاری اُنکے ساتھ کتاب اور ترازو تاکہ لوگ سیدھے رہیں انصاف پر1 اور ہم نے اتارا لو ہا2 اُس میں سخت لڑائی ہے اور لوگوں کے کام چلتے ہیں3 اور تاکہ معلوم کرے اللہ کون مدد کرتا ہے اُسکے رسولوں کی بن دیکھے4 بیشک اللہ زوآور ہے زبردست5
Footnotes
  • [1] نزول کتاب و میزان:کتاب اور ترازو۔ شاید اسی تولنے کی ترازو کو کہا کہ اس کے ذریہ سے بھی حقوق ادا کرنے اور لین دین میں انصاف ہوتا ہے۔ یعنی کتاب اللہ اسلئے اتاری کہ لوگ عقائد اور اخلاق و اعمال میں سیدھے انصاف کی راہ چلیں، افراط و تفریط کے راستہ پر قدم نہ ڈالیں۔ اور ترازو اسلئے پیدا کی کہ بیع و شراء وغیرہ معاملات میں انصاف کا پلہ کسی طرف اٹھا، یا جھکا نہ رہے۔ اور ممکن ہے "ترازو" شریعت کو فرمایا ہو ۔ جو تمام اعمال قلبیہ و قالبیہ کے حسن و قحج کو ٹھیک جانچ تول کر بتلاتی ہے۔ واللہ اعلم۔
  • [2] ہم نے لوہا اتارا:یعنی اپنی قدرت سے پیدا کیا اور زمین میں اسکی کانیں رکھدیں۔
  • [3] یعنی لوہے سے لڑائی کے سامان (اسلحہ وغیرہ) تیار ہوتے ہیں۔ اور لوگوں کے بہت سے کام چلتے ہیں۔
  • [4] یعنی جو آسمانی کتاب سے راہ راست پر نہ آئیں اور انصاف کی ترازو کو دنیا میں سیدھا نہ رکھیں، ضرورت پڑے گی کہ انکی گوشمالی کیجائے اور ظالم و کجرو معاندین پر اللہ و رسول کے احکام کا وقار و اقتدار قائم رکھا جائے۔ اس وقت شمشیر کے قبضہ پر ہاتھ ڈالنا اور ایک خالص دینی جہاد میں اسی لوہے سے کام لینا ہو گا۔ اس وقت کھل جائے گا کہ کونسے وفادار بندے ہیں جو بن دیکھے خدا کی محبت میں آخرت کے غائبانہ اجر و ثواب پر یقین کر کے اسکے دین اور اسکے رسولوں کی مدد کرتے ہیں۔
  • [5] یعنی جہاد کی تعلیم و ترغیب اسلئے نہیں دی گئ کہ اللہ کچھ تمہاری امداد و اعانت کا محتاج ہے۔ بھلا اس زو آور اور زبردست ہستی کو کمزور مخلوق کی کیا حاجت ہو سکتی تھی۔ ہاں تمہاری وفاداری کا امتحان مقصود ہے۔ تاکہ جو بندے اس میں کامیاب ہوں انکو اعلٰی مقامات پر پہنچایا جائے۔