Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Mujadila — Ayah 11

58:11
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا قِيلَ لَكُمۡ تَفَسَّحُواْ فِي ٱلۡمَجَٰلِسِ فَٱفۡسَحُواْ يَفۡسَحِ ٱللَّهُ لَكُمۡۖ وَإِذَا قِيلَ ٱنشُزُواْ فَٱنشُزُواْ يَرۡفَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ دَرَجَٰتٖۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ ١١
اے ایمان والو جب کوئی تم کو کہے کہ کھل کر بیٹھو1 مجلسوں میں تو کھل جاؤ اللہ کشادگی دے تم کو2 اور جب کوئی کہے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو3 اللہ بلند کرے گا اُنکے لئے جو کہ ایمان رکھتے ہیں تم میں سے اور علم انکے درجے4 اور اللہ کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو5
Footnotes
  • [1] یعنی ہر ایک کو اس کے کام اور لیاقت کے موافق درجے عطا کرتا ہے اور وہ وہی جانتا ہے کہ کون واقعی ایماندار اور اہل علم ہیں۔
  • [2] مجلس میں بیٹھنے کے آداب:یعنی اس طرح بیٹھو کہ جگہ کھل جائے اور دوسروں کو بھی موقع بیٹھنے کا ملے۔
  • [3] یعنی اللہ تمہاری تنگیوں کو دور کریگا اور اپنی رحمت کے دروارے کشادہ کر دیگا۔
  • [4] یعنی سچّا ایمان اور صحیح علم انسان کو ادب و تہذیب سکھلاتا اور متواضع بناتا ہے۔ اہل علم و ایمان جس قدر کمالات و مراتب میں ترقی کرتے ہیں، اسی قدر جھکتے اور اپنے کو ناچیز سمجھتے جاتے ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ ان کے درجے اور زیادہ بلند کرتا ہے مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللّٰہُ ۔ یہ متکبربددین یا جاہل گنوار کاکام ہے کہ اتنی سی بات پر لڑے کہ مجھے یہاں سے کیوں اٹھادیا اور وہاں کیوں بٹھا دیا۔ یا مجلس سے اٹھ کر جانے کو کیوں کہا۔ افسوس کہ آج بہت سے بزرگ اور عالم کہلانے والے اسی خیالی اعزاز کے سلسلہ میں غیر مختتم جنگ آزمائی اور مورچہ بندی شروع کر دیتے ہیں اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ (البقرۃ۔۱۵۶)۔
  • [5] یعنی حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں۔ "یہ آداب ہیں مجلس کے۔ کوئی آئے اور جگہ نہ پائے تو چاہیئے سب تھوڑا تھوڑا ہٹیں تا مکان حلقہ کشادہ ہو جائے۔ یا (اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوں اور) پرے ہٹ کر حلقہ کرلیں۔ (یا بالکل چلے جانے کو کہا جائے تو چلے جائیں) اتنی حرکت میں غرور (یا بخل) نہ کریں۔ خوئے نیک پر اللہ مہربان ہے اور خوئے بد سے بیزار"۔ (تنبیہ) حضور ﷺ پر نور کی مجلس میں ہر شخص آپ ﷺ کا قرب چاہتا تھا جس سے کبھی مجلس میں تنگی پیش آتی تھی۔ حتّٰی کہ بعض مرتبہ اکابر صحابہؓ کو حضور ﷺ کے قریب جگہ نہ ملتی۔ اس لئے یہ احکام دیئے گئے۔ تا ہر ایک کو درجہ بدرجہ استفادہ کا موقع ملے، اور نظم و ضبط قائم رہے۔ اب بھی اس قوم کی انتظامی چیزوں میں صدر مجلس کے احکام کی اطاعت کرنا چاہیئے۔ اسلام ابتری اور بدنظمی نہیں سکھلاتا۔ بلکہ انتہائی نظم و شائستگی سکھلاتا ہے۔ اور جب عام مجالس میں یہ حکم ہے تو میدانِ جہاد اور صفوفِ جنگ میں تو اس سے کہیں بڑھ کر ہو گا۔