Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Mujadila — Ayah 12

58:12
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نَٰجَيۡتُمُ ٱلرَّسُولَ فَقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيۡ نَجۡوَىٰكُمۡ صَدَقَةٗۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ لَّكُمۡ وَأَطۡهَرُۚ فَإِن لَّمۡ تَجِدُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ ١٢
اے ایمان والو جب تم کان میں بات کہنا چاہو رسول سے تو آگے بھیجو اپنی بات کہنے سے پہلے خیرات یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اور بہت ستھرا پھر اگر نہ پاؤ تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے1
Footnotes
  • [1] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کے وقت صدقہ کا حکم:یعنی منافق بے فائدہ باتیں حضرت ﷺ سے کان میں کرتے کہ لوگوں میں اپنی بڑائی جتائیں اور بعض مسلمان غیر مبہم باتوں میں سرگوشی کرکے اتنا وقت لے لیتے تھے کہ دوسروں کو حضور ﷺ سے مستفید ہونے کا موقع نہ ملتا تھا، یا کسی وقت آپﷺ خلوت چاہتے تو اس میں بھی تنگی ہوتی تھی لیکن مروت و اخلاق کے سبب کسی کو منع نہ فرماتے۔ اس وقت یہ حکم ہوا کہ جو مقدرت والا آدمی حضور ﷺ سے سرگوشی کرنا چاہے وہ اس سے پہلے کچھ خیرات کرکے آیا کرے۔ اس میں کئی فائدے ہیں۔ غریبوں کی خدمت، صدقہ کرنے والے کے نفس کا تزکیہ، مخلص و منافق کی تمیز، سرگوشی کرنیوالوں کی تقلیل، وغیر ذٰلک۔ ہاں جس کے پاس خیرات کرنے کو کچھ نہ ہو، اس سے یہ قید معاف ہے۔ جب یہ حکم اترا منافقین نے مارے بخل کے وہ عادت چھوڑ دی اور مسلمان بھی سمجھ گئے کہ زیادہ سرگوشیاں کرنا اللہ کو پسند نہیں۔ اسی لئے یہ قید لگائی گئ ہے۔ آخر یہ حکم اگلی آیت سے منسوخ فرما دیا۔