Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Mujadila — Ayah 7

58:7
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ مَا يَكُونُ مِن نَّجۡوَىٰ ثَلَٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَآ أَدۡنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ أَيۡنَ مَا كَانُواْۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ ٧
تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں کہیں نہیں ہوتا مشورہ تین کا جہاں وہ نہیں ہوتا ان میں چوتھا اور نہ پانچ کا جہاں وہ نہیں ہوتا اُن میں چھٹا اور نہ اُس سے کم اور نہ زیادہ جہاں وہ نہیں ہوتا اُنکے ساتھ جہاں کہیں ہوں1 پھرجتلا دے گا اُنکو جو کچھ انہوں نے کیا قیامت کے دن بیشک اللہ کو معلوم ہے ہر چیز
Footnotes
  • [1] اللہ ہر مجلس میں موجود ہے:یعنی صرف ان کے اعمال ہی پر کیا منحصر ہے، اللہ کے علم میں تو آسمان و زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز ہے۔ کوئی مجلس، کوئی سرگوشی اور کوئی خفیہ سے خفیہ مشورہ نہیں ہوتا جہاں اللہ اپنے علم محیط کے ساتھ موجود نہ ہو جہاں تین آدمی چھپ کر مشورہ کرتے ہوں نہ سمجھیں کہ وہاں کوئی چوتھا نہیں سن رہا۔ اور پانچ کی کمیٹی خیال نہ کرے کہ کوئی چھٹا سننے والا نہیں۔ خوب سمجھ لو کہ تین ہوں یا پانچ یا اس سے کم زیادہ کہیں ہوں، کسی حالت میں ہوں، اللہ تعالیٰ ہر جگہ اپنے علم محیط سے ان کے ساتھ ہے کسی وقت ان سے جدا نہیں۔ (تنبیہ) طاق عدد کی حکمت: مشورہ میں اگر صرف دو شخص ہوں تو بصورت اختلاف ترجیح دشوار ہوتی ہے۔ اسی لئے عمومًا معاملات مہمہ میں طاق عدد رکھتے ہیں۔ اور ایک کے بعد پہلا طاق عدد تین تھا پھر پانچ۔ شاید اس لئے ان دو کو اختیار فرمایا اور آگے وَ لَاۤ اَدۡنٰی مِنۡ ذٰلِکَ وَ لَاۤ اَکۡثَرَ (المجادلۃ۔۷) سے تعمیم فرمادی۔ باقی حضرت عمرؓ کا شورٰی خلافت کو چھ بزرگوں میں دائر کرنا (حالانکہ چھ کا عدد طاق نہیں) اس لئے ہوگا کہ اس وقت یہ ہی چھ خلافت کے سب سے زیادہ اہل اور مستحق تھے جن میں سے کسی کو چھوڑا نہیں جاسکتا تھا۔ نیز خلیفہ کا انتخاب ان ہی چھ سے ہو رہا تھا تو ظاہر ہے جس کا نام آتا، اس کے سوائے رائے دینے والے تو پانچ ہی رہتے ہیں۔ پھر بھی احتیاطًا حضرت عمرؓ نے بصورت مساوات ایک جانب کی ترجیح کے لئے عبداللہ بن عمرؓ کا نام لے دیا تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔