Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Mujadila — Ayah 8

58:8
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ نُهُواْ عَنِ ٱلنَّجۡوَىٰ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُواْ عَنۡهُ وَيَتَنَٰجَوۡنَ بِٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِ وَمَعۡصِيَتِ ٱلرَّسُولِۖ وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوۡكَ بِمَا لَمۡ يُحَيِّكَ بِهِ ٱللَّهُ وَيَقُولُونَ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ لَوۡلَا يُعَذِّبُنَا ٱللَّهُ بِمَا نَقُولُۚ حَسۡبُهُمۡ جَهَنَّمُ يَصۡلَوۡنَهَاۖ فَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ٨
تو نے نہ دیکھا اُن لوگوں کو جنکو منع ہوئی کانا پھوسی پھر بھی وہی کرتے ہیں جو منع ہو چکا ہے اور کان میں باتیں کرتے ہیں گناہ کی اور زیادتی کی اور رسول کی نافرمانی کی1 اور جب آئیں تیرے پاس تجھ کو وہ دعا دیں جو دعا نہیں دی تجھ کو اللہ نے اور کہتے ہیں اپنے دل میں کیوں نہیں عذاب کرتا ہم کو اللہ اُس پر جو ہم کہتے ہیں کافی ہے اُنکو دوزخ داخل ہوں گے اس میں سو بری جگہ پہنچے2
Footnotes
  • [1] حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں منافقوں کی سرگوشیاں:حضرت کی مجلس میں بیٹھ کر منافق سرگوشیاں کرتے۔ مجلس والوں کا مذاق اڑاتے۔ ان پر عیب پکڑتے۔ ایک دوسرے کے کان میں اس طرح بات کہتا اور آنکھوں سے اشارے کرتا جس سے مخلص مسلمانوں کو تکلیف ہوتی۔ اور حضرت ﷺ کی بات سن کر کہتے "یہ مشکل کام ہم سے کہاں ہوسکے گا"۔ پہلے سورۃ "النساء" میں اس طرح کی سرگوشیوں سے منع کیا جاچکا تھالیکن یہ موذی بے حیا پھر بھی اپنی حرکتوں اور زیادتیوں سے باز نہ آئے۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
  • [2] حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں یہودیوں کی گستاخی:یعنی اللہ نے تو آپ کو دوسرے انبیاء کے ساتھ یہ دعائیں دی ہیں سَلٰمٌ عَلَی الۡمُرۡسَلِیۡنَ (الصافات۔۱۸۱) اور وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیۡنَ اصۡطَفٰی (النمل۔۵۹) اور مومنین کی زبانوں سے سے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ مگر بعض یہود جب آپ کے پاس آتے تو بجائے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ کے دبی زبان سے اَلسَّامُ عَلَیْکَ کہتے جس کے معنی ہیں "تجھے موت آئے" گویا اللہ نے جو سلامتی کی دعا آپ کو دی تھی، اس کے خلاف بددعا دیتے تھے۔ پھر آپس میں کہتے کہ اگر یہ واقعی رسول ہے تو اس کہنے سے ہم پر فوراً عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس کا جواب دیا حَسْبُھُمْ جَھَنَّمُ یعنی جلدی نہ کرو۔ ایسا کافی عذاب آئیگا جس کے سامنے دوسرے عذاب کی ضرورت نہ ہوگی۔ (تنبیہ) احادیث میں "یہود" کے متعلق آیا ہے کہ "السّلام" کی جگہ "السّام" کہتے تھے۔ ممکن ہے بعض منافقین بھی ایسا کہتے ہونگے۔ کیونکہ منافق عموماً یہودی تھے۔ حضور ﷺ کی عادت تھی کہ جب کوئی یہودی یہ کہتا آپ جواب میں صرف "وعلیک" فرما دیتے۔ ایک مرتبہ عائشہ صدّیقہ نے "السّام علیک" کے جواب میں یہودی کو "علیک السام واللعنۃ" کہا تو حضور ﷺ کو کمال خلق سے یہ جواب پسند نہ آیا۔