اے ایمان والو جب تم کان میں بات کرو تو مت کرو بات گناہ کی اور زیادتی کی اور رسول کی نافرمانی کی اور بات کرو احسان کی اور پرہیزگاری کی1 اور ڈرتے رہو اللہ سے جسکے پاس تم کو جمع ہو نا ہے2
Footnotes
[1]
یعنی سب کو اللہ کے سامنے جمع ہو کر ذرّہ ذرّہ کا حساب دینا ہے۔ اس سے کسی کا ظاہر و باطن پوشیدہ نہیں۔ لھٰذا اس سے ڈر کر نیکی اور پرہیزگاری کی بات کرو۔
[2]سرگوشی کے آداب:یعنی سچے مسلمانوں کو منافقین کی خو سے بچنا چاہیئے۔ ان کی سرگوشیاں اور مشورے ظلم و عدوان اور اللہ و رسول کی نافرمانی کے لئے نہیں، بلکہ نیکی اور تقویٰ اور معقول باتوں کی اشاعت کیلئے ہونے چاہئیں جیسا کہ سورۃ "النساء "میں گذرا لَا خَیۡرَ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنۡ نَّجۡوٰىہُمۡ اِلَّا مَنۡ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوۡ مَعۡرُوۡفٍ اَوۡ اِصۡلَاحٍۭ بَیۡنَ النَّاسِ (النساء۔۱۱۴)۔