Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hashr — Ayah 5

59:5
مَا قَطَعۡتُم مِّن لِّينَةٍ أَوۡ تَرَكۡتُمُوهَا قَآئِمَةً عَلَىٰٓ أُصُولِهَا فَبِإِذۡنِ ٱللَّهِ وَلِيُخۡزِيَ ٱلۡفَٰسِقِينَ ٥
جو کاٹ ڈالا تم نے کھجور کا درخت یا رہنے دیا کھڑا اپنی جڑ پر سو اللہ کے حکم سے1 اور تاکہ رسوا کرے نافرمانوں کو2
Footnotes
  • [1] مسلمانوں کا درختوں کا کاٹنا:یعنی جب وہ لوگ قلعہ بند ہوگئے تو حضرت ﷺ نے اجازت دی کہ ان کے درخت کاٹے جائیں اور باغ اجاڑے جائیں تا اس کے درد سے باہر نکل کر لڑنے پر مجبور ہوں اور کھلی ہوئی جنگ کے وقت درختوں کی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ اس پر کچھ درخت کاٹے گئے اور کچھ چھوڑ دیئے گئے کہ فتح کے بعد مسلمانوں کے کام آئیں گے۔ کافروں نے طعن کرنا شروع کیا کہ خود تو فساد سے منع کرتے ہیں، کیا درختوں کا کاٹنا اور جلانا فساد نہیں؟ اس پر یہ آیت اتری یعنی یہ سب کچھ اللہ جل شانہ کے حکم سے ہے۔ حکم الہٰی کی تعمیل کو فساد نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ گہری حکمتوں اور مصلحتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ چنانچہ اس حکم کے بعض مصالح اوپر بیان ہو چکیں۔
  • [2] یہود کی رسوائی:یعنی تاکہ مسلمانوں کو عزت دے اور کافروں کو ذلیل کرے۔ چنانچہ جو درخت چھوڑ دیئے گئے اس میں مسلمانوں کی ایک کامیابی اور کفار کو غیظ میں ڈالنا ہے کہ یہ مسلمان اس کو برتیں گے اور نفع اٹھائیں گے۔ اور جو کاٹے یا جلائے گئے اس میں مسلمانوں کی دوسری کامیابی یعنی ظہور آثارغلبہ اور کفار کو غیظ و غضب میں ڈالنا ہے کہ مسلمان ہماری چیزوں میں کیسے تصرفات کررہے ہیں۔ لہٰذا دونوں امر جائز اور حکمت پر مشتمل ہیں۔