Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hashr — Ayah 6

59:6
وَمَآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنۡهُمۡ فَمَآ أَوۡجَفۡتُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ خَيۡلٖ وَلَا رِكَابٖ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُۥ عَلَىٰ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٦
اور جو مال کہ لوٹا دیا اللہ نے اپنے رسول پر اُن سے سو تم نے نہیں دوڑائے اُس پر گھوڑے اور نہ اونٹ ولیکن اللہ غلبہ دیتا ہے اپنے رسولوں کو جس پر چاہے اور اللہ سب کچھ کر سکتا ہے1
Footnotes
  • [1] مالِ غنیمت اور فئی کا فرق:حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں کہ " یہ ہی فرق رکھا ہے "غنیمت" میں اور "فئ" میں۔ جو مال لڑائی سے ہاتھ لگا وہ غنیمت ہے اس میں پانچواں حصہ اللہ کی نیاز (جس کی تفصیل دسویں پارہ کےشروع میں گذر چکی) اور چار حصے لشکر کو تقسیم کئے جاتے ہیں۔ اور جو بغیر جنگ کے ہاتھ آیا وہ سب کا سب مسلمانوں کے خزانہ میں رہے (ان کی مصالح عامہ میں ) اور جو کام ضروری ہو اس پر خرچ ہو"۔ (تنبیہ) اگر قدرے جنگ ہونے کے بعد کفار مرعوب ہو کر صلح کر طرف مسارعت کریں اور مسلمان قبول کرلیں۔ اس صورت میں جو اموال صلح سے حاصل ہونگے وہ بھی حکم "فئ" میں داخل ہیں۔ اموال فئی رسول اللہ کیلئے ہیں: نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں اموال "فئ" خالص حضور ﷺ کے اختیار و تصرف میں ہوتے تھے۔ ممکن ہے کہ یہ اختیار مالکانہ نہ ہو جو صرف آپ کے لئے مخصوص تھا۔ جیسا کہ آیات حاضرہ میں عَلٰی رَسُوْلِہٖ کے لفظ سے متبادر ہوتا ہے۔ اور احتمال ہے کہ محض حاکمانہ ہو بہرحال اللہ تعالیٰ نے ان اموال کے متعلق آپ کو اگلی آیت میں ہدایت فرمادی کہ وجوبًا یا ندبٓا فلاں فلاں مصارف میں صرف کئے جائیں۔ آپ ﷺ کے بعد یہ اموال امام کے اختیار و تصرف میں چلے جاتے ہیں لیکن اس کا تصرف مالکانہ نہیں ہوتا، محض حاکمانہ ہوتا ہے۔ وہ ان کو اپنی صوابدید اور مشورہ سے مسلمانوں کی عام ضروریات و مصالح میں خرچ کرے گا۔ باقی اموالِ غنیمت کا حکم اس سے جدا گانہ ہے۔ وہ خمس نکالے جانے کے بعد خالص لشکر کا حق ہوتا ہے۔ کمایدل علیہ قولہ تعالیٰ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ (انفال۔۴۱) الخ لشکری اپنی خوشی سے چھوڑ دیں تو وہ علیحدہ بات رہی۔ البتہ شیخ ابوبکر رازی حنفیؒ نے "احکام القرآن" میں نقل کیا ہے کہ یہ حکم اموال منقولہ کا ہے غیر منقولہ میں امام کو اختیار ہے کہ مصلحت سمجھے تو لشکر پر تقسیم کردے اور مصلحت نہ سمجھے تو مصالح عامّہ کے لئے رہنے دے۔ جیسا کہ سوادِ عراق میں حضرت عمرؓ نے بعض جلیل القدر صحابہؓ کے مشورہ سے یہ ہی عملدرآمد رکھا۔ اسی مسلک کے موافق شیخ ابوبکر رازیؒ نے وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ الخ کو اموال منقولہ پر اور سورۃ "حشر" کی آیات کو اموال غیر منقولہ پر حمل کیا ہے۔ اس طرح کہ پہلی آیت وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ مِنۡہُمۡ حکم "فئ" پر اور دوسری آیت مَاۤ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ مِنۡ اَہۡلِ الۡقُرٰی حکم "غنیمت" پر محمول ہے۔ اور لغۃً "غنیمت" کو لفظ "فئ" سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔