Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hashr — Ayah 7

59:7
مَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِ كَيۡ لَا يَكُونَ دُولَةَۢ بَيۡنَ ٱلۡأَغۡنِيَآءِ مِنكُمۡۚ وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمۡ عَنۡهُ فَٱنتَهُواْۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٧
جو مال لوٹایا اللہ نے اپنے رسول پر بستیوں والوں سے سو اللہ کے واسطے اور رسول کے1 اور قرابت والے کے2 اور یتیموں کے اور محتاجوں کے اور مسافر کے تاکہ نہ آئے لینے دینے میں دولتمندوں کے تم میں سے3 اور جو دے تم کو رسول سو لے لو اور جس سے منع کرے سو چھوڑ دو4 اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے5
Footnotes
  • [1] اموالِ فئی کے مصارف:پہلی آیت میں صرف اموال "بنی نضیر" کا ذکر تھا۔ اب اموال "فئ" کے متعلق عام ضابطہ بتلاتے ہیں۔ یعنی "فئ" پر قبضہ رسول کا اور رسول کے بعد امام کا کہ اسی پر یہ خرچ پڑتے ہیں۔ باقی اللہ کا ذکر تبرکًا ہوا۔ وہ تو سب ہی کا مالک ہے۔ ہاں کعبہ کا خرچ اور مسجدوں کا بھی جو اللہ کے نامزد ہیں ممکن ہے اس میں درج ہو۔
  • [2] یعنی رسول کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔ ڈرتے رہو کہیں رسول کی نافرمانی کی صورت میں اللہ تعالیٰ کوئی سخت عذاب مسلّط نہ کردے۔
  • [3] ان اموال میں اہلِ بیت کا حصہ:یعنی حضرت ﷺ کے قربت والوں کے۔ چنانچہ حضور ﷺ اپنے زمانہ میں اس مال میں سے ان کو بھی دیتے تھے۔ اور ان میں فقیر کی بھی قید نہیں تھی۔ اپنے چچا حضرت عباسؓ کو جو دولتمند تھے آپ ﷺ نے حصہ عطا فرمایا۔ اب آپﷺ کے بعد حنفیہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کے قرابتدار جو صاحب حاجت ہوں امام کو چاہیئے کہ انہیں دوسرے محتاجوں سے مقدم رکھے۔
  • [4] دولت کی گردش:یعنی یہ مصارف اس لئے بتلائے کہ ہمیشہ یتیموں، محتاجوں، بیکسوں اور عام مسلمانوں کی خبرگیری ہوتی رہے اور عام اسلامی ضروریات سرانجام پاسکیں۔ یہ اموال محض دولتمندوں کے الٹ پھیر میں پڑ کر ان کی مخصوص جاگیربن کر نہ رہ جائیں جن سے سرمایہ دار مزے لوٹیں اور غریب فاقوں مریں۔
  • [5] یعنی مال و جائداد وغیرہ جس طرح پیغمبر اللہ کے حکم سے تقسیم کرے اسے بخوشی و رغبت قبول کرو، جو ملے لے لو۔ جس سے روکا جائے رک جاؤ اور اسی طرح اس کے تمام احکام اور اوامرو نواہی کی پابندی رکھو۔