Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Mumtahanah — Ayah 1

60:1
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمۡ أَوۡلِيَآءَ تُلۡقُونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ وَقَدۡ كَفَرُواْ بِمَا جَآءَكُم مِّنَ ٱلۡحَقِّ يُخۡرِجُونَ ٱلرَّسُولَ وَإِيَّاكُمۡ أَن تُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ رَبِّكُمۡ إِن كُنتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَٰدٗا فِي سَبِيلِي وَٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِيۚ تُسِرُّونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ وَأَنَا۠ أَعۡلَمُ بِمَآ أَخۡفَيۡتُمۡ وَمَآ أَعۡلَنتُمۡۚ وَمَن يَفۡعَلۡهُ مِنكُمۡ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ ١
[ا] اے ایمان والو نہ پکڑو میرےاور اپنے دشمنوں کو دوست تم اُنکو پیغام بھیجتےہو دوستی سے1 اور وہ منکر ہوئے ہیں اُس سے جو تمہارے پاس آیا سچا دین2 نکالتے ہیں رسول کو اور تم کو اس بات پر کہ تم مانتے ہو اللہ کو جو رب ہے تمہارا3 اگر تم نکلے ہو لڑنے کو میری راہ میں اور طلب کرنے کو میری رضامندی4 تم اُنکو چھپا کر بھیجتے ہو دوستی کے پیغام اور مجھ کو خوب معلوم ہے جو چھپایا تم نے اور جو ظاہر کیا تم نے5 اور جو کوئی تم میں یہ کام کرے تو وہ بھول گیا سیدھی راہ6
Footnotes
  • [1] حاطب بن ابی بلتعہؓ کا خط:یعنی آنحضرت ﷺ کی صلح مکہ والوں سے ہوئی تھی جس کا ذکر اِنَّا فَتَحۡنَا (فتح۔۱) میں آچکا۔ دو برس یہ صلح قائم رہی، پھر کافروں کی طرف سے ٹوٹی۔ تب حضرت ﷺ نے خاموشی کے ساتھ فوج جمع کر کے مکہ فتح کرنے کا ارادہ کیا۔ خبروں کی بندش کردی گئ۔ مبادا کفار مکہ آپ ﷺ کی تیاریوں سے آگاہ ہو کر لڑائی کا سامان شروع کر دیں۔ اور اس طرح حرم شریف میں جنگ کرنا ناگزیر ہو جائے۔ ایک مسلمان حاطب بن ابی بلتعہؓ نے (جو مہاجرین بدریین میں سے تھے) مکہ والوں کو خط بھیجا کہ محمد ﷺ کا لشکر اندھیری رات اور سیل بے پناہ کی طرح تم پر ٹوٹنے والا ہے۔ حضرت ﷺ کو وحی سے معلوم ہوگیا۔ آپ ﷺ نے حضرت علیؓ وغیرہ چند صحابہؓ کو حکم دیا کہ ایک عورت مکہ کے راستہ میں سفر کرتی ہوئی فلاں مقام پر ملے گی۔ اس کے پاس ایک خط ہے، وہ حاصل کر کے لاؤ۔ یہ لوگ تیزی سے روانہ ہوئے اور عورت کو ٹھیک اسی مقام پر پالیا۔ اس نے بہت لیت و لیل اور ردّو کد کے بعد خط ان کے حوالے کیا۔ پڑھنے سے معلوم ہوا کہ حاطب بن ابی بلتعہؓ کی طرف سے کفار مکہ کے نام ہے اور مسلمانوں کے حملہ کی اطلاع دی گئ ہے۔ آپ ﷺ نے حاطبؓ کو بلا کر پوچھا کہ یہ کیا حرکت ہے۔ بولے یارسول اللہ ﷺ نہ میں نے کفر اختیار کیا ہے نہ اسلام سے پھرا ہوں۔ سچی بات یہ ہے کہ میرے اہل وعیال مکہ میں ہیں۔ وہاں ان کی حمایت کرنیوالا کوئی نہیں۔ میں نے کافروں پرا یک احسان کرکے یہ چاہا کہ وہ لوگ اس کے معاوضہ میں میرے اہل و عیال کی خبر لیتے رہیں اور ان سے اچھا سلوک کریں (میں نے سمجھا کہ اس سے میرا کچھ فائدہ ہو جائے گا اور اسلام کو کوئی ضرر نہیں پہنچ سکتا) فتح و نصرت کے جو وعدے اللہ نے آپ ﷺ سے کئے ہیں وہ یقیناً پورے ہو کر رہیں گے۔ کسی کے روکے رک نہیں سکتے۔ (چناچہ نفس خط میں بھی یہ مضمون تھا کہ"خدا کی قسم ! اگر رسول اللہ ﷺ تن تنہا بھی تم پر حملہ آور ہوں تو اللہ ان کی مدد کریگا اور جو وعدے ان سے کئے ہیں پورے کرکے چھوڑیگا" بلاشبہ حاطبؓ سے بہت بڑی خطا ہوئی لیکن رحمۃ للعالمین ﷺ نے فرمایا لاتقولو الہ الا خیرا بھلائی کے سوا اس کو کچھ مت کہو۔ اور فرمایا حاطبؓ بدریین میں سے ہے تمہیں کیا معلوم ہے کہ اللہ نے بدریین کی خطائیں معاف فرمادیں۔ سورۃ ہذا کا بڑا حصہ اسی قصہ میں نازل ہوا۔
  • [2] یعنی تمہارا گھر سے نکلنا اگر میری خوشنودی اور میری راہ میں جہاد کرنے کے لئے ہے اور خالص میری رضا کے واسطے تم نے سب کو دشمن بنایا ہے تو پھر انہی دشمنوں سے دوستی گانٹھنے کا کیا مطلب، کیا جنہیں ناراض کرکے اللہ کو راضی کیا تھا اب انہیں راضی کرکے اللہ کو ناراض کرنا چاہتے ہو؟ العیاذ باللہ۔
  • [3] اللہ سے کوئی چیز خفیہ نہیں:یعنی آدمی ایک کام تمام دنیا سے چھپا کرکرنا چاہے تو کیا اسکو اللہ سے چھپا لیگا؟ دیکھو! حاطبؓ نے کس قدر کوشش کی کہ خط کی اطلاع کسی کو نہ ہو۔ مگر اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو مطلع فرمادیا۔ اور راز قبل از وقت فاش ہوگیا۔
  • [4] کفّار سے دوستی کی ممانعت:یعنی کفار مکہ اللہ کے دشمن ہیں اور تمہارے بھی۔ ان سے دوستانہ برتاؤ کرنا اور دوستانہ پیغام ان کی طرف بھیجنا ایمان والوں کو زیبا نہیں۔
  • [5] اس لئے اللہ کے دشمن ہوئے۔
  • [6] دوستی نہ کرنے کی وجہ:یعنی پیغمبر کو اور تم کو کیسی کیسی ایذائیں دے کر ترک وطن پر مجبور کیا۔ محض اس قصور پر کہ تم ایک اللہ کو جو تمہارا سب کا رب ہے، کیوں مانتے ہو۔ اس سے بڑی دشمنی اور ظلم کیا ہوگا۔ تعجب ہے کہ ایسوں کی طرف تم دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہو۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]