Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah At-Talaq — Ayah 12

65:12
ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖ وَمِنَ ٱلۡأَرۡضِ مِثۡلَهُنَّۖ يَتَنَزَّلُ ٱلۡأَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ لِتَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ وَأَنَّ ٱللَّهَ قَدۡ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عِلۡمَۢا ١٢
اللہ وہی ہے جس نے بنائے سات آسمان اور زمین بھی اتنی ہی1 اترتا ہے اُس کا کا حکم اُنکے اندر2 تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز کر سکتا ہے اور اللہ کے علم میں سمائی ہے ہر چیز کی3
Footnotes
  • [1] یعنی عالم کے انتظام و تدبیر کے لئے اللہ کے احکام تکوینیہ و تشریعیہ آسمانوں اور زمینوں کے اندر اترتے رہتے ہیں۔
  • [2] اللہ کی صفات علم و قدرت:یعنی آسمان و زمین کے پیدا کرنے اور ان میں انتظامی احکام جاری کرنے سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات علم و قدرت کا اظہار ہو (نبّہ علیہ ابن قیم فی بدائع الفوائد) بقیہ صفات ان ہی دو صفتوں سے کسی نہ کسی طرح تعلق رکھتی ہیں۔ صوفیہ کے ہاں جو ایک حدیث نقل کرتے ہیں کُنْتُ کنزًا مَخْفِیًا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَگو محدثین کے نزدیک صحیح نہیں۔ مگر اس کا مضمون شاید اس آیت کے مضمون سے ماخوذ و مستفاد ہو۔ واللہ اعلم۔ تم سورۃ الطلاق وللہ الحمد والمنہ۔
  • [3] سات زمینوں کی تخلیق:یعنی زمینیں بھی سات پیدا کیں، جیسا کہ ترمذی وغیرہ کی احادیث میں ہے۔ ان میں احتمال ہے کہ نظر نہ آتی ہوں، اور احتمال ہے کہ نظر آتی ہوں۔ مگر لوگ ان کو کواکب سمجھتے ہوں۔ جیسا کہ مریخ وغیرہ کی نسبت آج کل حکماء یورپ کا گمان ہے کہ اس میں پہاڑ دریا اور آبادیاں ہیں۔ باقی حدیث میں جو ان زمینوں کا اس زمین کے تحت میں ہونا وارد ہے وہ شاید باعتبار بعض حالات کے ہو۔ اور بعض حالات میں وہ زمینیں اس سے فوق ہوجاتی ہوں۔ رہا ابن عباسؓ کا وہ اثر جس میں اٰدمھم کا دمکم وغیرہ آیا ہے، اس کی شرح کا یہ موقع نہیں۔ "روح المعانی" میں اس پر بقدر کفایت کلام کیا ہے۔ اور حضرت مولانا محمد قاسمؒ کے بعض رسائل میں اس کے بعض اطراف وجوانب کو بہت خوبی سے صاف کر دیا گیا ہے۔