Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah At-Tahrim — Ayah 1

66:1
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكَۖ تَبۡتَغِي مَرۡضَاتَ أَزۡوَٰجِكَۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ١
1 اے نبی تو کیوں حرام کرتا ہے جو حلال کیا اللہ نے تجھ پر چاہتا ہے تو رضامندی اپنی عورتوں کی2 اور اللہ بخشنے والا ہے مہربان3
Footnotes
  • [1] کہ گناہ کو معاف کردیتا ہے۔ اور آپ ﷺ سے تو کوئی گنا ہ بھی نہیں ہوا۔ محض اپنے درجہ میں ایک خلف اولیٰ بات ہوئی۔
  • [2] ازواجِ مطہرات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلاء کا واقعہ:سورۃ "احزاب" کے فوائد میں گزر چکا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتوحات عنایت فرمائیں اور لوگ آسودہ ہوگئے تو ازواج مطہرات کو بھی خیال آیا کہ ہم کیوں آسودہ نہ ہوں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے مل کو حضور ﷺ سے زیادہ نفقہ کا مطالبہ شروی کیا۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے وَھُنَّ حَوْلِیْ یَطْلُبْنَنی النَّفْقَۃَ اور بخاری کے ابواب المناقب میں ہے وحولہ نسوۃ یکلمنہ ویستکثرنہ اس پر ابوبکرؓ نے عائشہؓ کو اور عمرؓ نے حفصہؓ کو ڈانٹ بتلائی۔ آخر ازواج نے وعدہ کیا کہ آئندہ ہم آپ ﷺ سے اس چیز کا مطالبہ نہیں کریں گی جو آپ ﷺ کے پاس نہیں ہے۔ پھر بھی رفتار واقعات کی ایسی رہی جس سے آپ ﷺ کو ایک ماہ کے لئے ازواج سے "ایلا" کرنا پڑا۔ تاآنکہ آیۂ تخییر نے جو "احزاب" میں ہے نازل ہو کر اس قصہ کا خاتمہ کر دیا۔ اس درمیان میں کچھ واقعات اور بھی پیش آئے۔ جس سے حضور ﷺ کی طبع مبارک پر گرانی ہوئی۔ اصل یہ ہے کہ ازواج مطہرات کو جو محبت اور تعلق حضور ﷺ کے ساتھ تھا اس نے قدرتی طور پر آپس میں ایک طرح کی کشمکش پیدا کردی تھی۔ ہر ایک زوجہ کی تمنا اور کوشش تھی کہ وہ زائد از زائد حضور ﷺ کی توجہات کا مرکز بن کر دارین کی برکات و فیوض سے متمتع ہو۔ مرد کے لئے یہ موقع تحمل و تدبر اور خوش اخلاقی کے امتحان کا نازک ترین موقع ہوتا ہے۔ مگر اس نازک موقع پر بھی حضور ﷺ کی ثابت قدمی ویسی ہی غیر متزلزل ثابت ہوئی جس کی توقع سید الانبیاء ﷺ کی پاک سیرت سے ہوسکتی تھی۔ آپ ﷺ کی عادت تھی کہ عصر کے بعد سب ازواج کے ہاں تھوڑی دیر کیلئے تشریف لے جاتے۔ ایک روز حضرت زینبؓ کے ہاں کچھ دیر لگی۔ معلوم ہوا کہ انہوں نے شہد پیش کیا تھا اس کے نوش فرمانے میں وقفہ ہوا پھر کئ روز یہ معمول رہا۔ حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ نے مل کو تدبیر کی کہ آپ ﷺ وہاں شہد پینا چھوڑ دیں۔ آپ ﷺ نے چھوڑ دیا اور حفصہؓ سے فرمایا کہ میں نے زینبؓ کے ہاں شہد پیا تھا مگر اب قسم کھاتا ہوں کہ پھر نہیں پیوں گا۔ نیز یہ خیال فرما کر کہ زینبؓ کو اس کی اطلاع ہوگی تو خواہ مخواہ دلگیر ہونگی۔ حفؓصہ کو منع کر دیا کہ اسکی اطلاع کسی کو نہ کرنا۔اسی طرح کا ایک قصہ ماریہ قبطیہؓ کے متعلق (جو آپﷺ کے حرم سے تھی جن کے بطن سے صاحبزادے ابراہیم تولد ہوئے) پیش آیا، اس میں آپ ﷺ نے ازواج کی خاطر قسم کھا لی کہ ماریہؓ کے پاس نہ جاؤنگا۔ یہ بات آپ ﷺ نے حضرت حفصہؓ کے سامنے کہی تھی اور تاکید کر دی تھی کہ دوسروں کے سامنے اظہار نہ ہو۔ حضرت حفصہؓ نے ان واقعات کی اطلاع چپکے سے حضرت عائشہؓ کو کر دی اور یہ بھی کہہ دیا کہ اور کسی سے نہ کہنا۔ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مطلع فرما دیا۔ آپ ﷺ نے حفصہؓ کو جتلایا کہ تم نے فلاں بات کی اطلاع عائشہؓ کو کر دی حالانکہ منع کر دیا تھا۔ وہ متعجب ہو کر کہنے لگیں کہ آپ سے کس نے کہا۔ شاید عائشہؓ کی طرف خیال گیا ہو گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا نَبَّاَنِیَ الۡعَلِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ یعنی حق تعالیٰ نے مجھے اطلاع دی۔ ان ہی واقعات کے سلسلہ میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
  • [3] اے رسول حلال کو اپنے اوپر حرام نہ کرو:حلال کو اپنے اوپر حرام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس چیز کو عقیدۃً حلال و مباح سمجھتے ہوئے عہد کرلیا تھا کہ آئندہ اس کو استعمال نہ کرونگا۔ ایسا کرنا اگر کسی مسلحت صحیحہ کی بناء پر ہوتو شرعًا جائز ہے۔ مگر حضور ﷺ کی شان رفیع کے مناسب نہ تھا کہ بعض ازواج کی خوشنودی کے لئے اس طرح کا اسوہ قائم کریں جو آئندہ امت کے حق میں تنگی کا موجب ہو۔ اس لئے حق تعالیٰ نے متنبہ فرما دیا کہ ازواج کے ساتھ بیشک خوش اخلاقی برتنے کی ضرورت ہے۔ مگر اس حد تک ضرورت نہیں کہ ان کی وجہ سے ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرکے تکلیف اٹھائیں۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]