Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah At-Tahrim — Ayah 11

66:11
وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱمۡرَأَتَ فِرۡعَوۡنَ إِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ٱبۡنِ لِي عِندَكَ بَيۡتٗا فِي ٱلۡجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِن فِرۡعَوۡنَ وَعَمَلِهِۦ وَنَجِّنِي مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ١١
اور اللہ نے بتلائی ایک مثل ایمان والوں کے لئے عورت فرعون کی1 جب بولی اے رب بنا میرے واسطے اپنے پاس ایک گھر بہشت میں2 اور بچا نکال مجھ کو فرعون سے اور اُسکے کام سے اور بچا نکال مجھ کو ظالم لوگوں سے3
Footnotes
  • [1] یعنی اپنا قرب عنایت فرما۔ اور بہشت میں میرے لئے مکان تیار کر۔
  • [2] فرعون کی بیوی کی فضیلت:یعنی فرعون کے پنچہ سے چھڑا اور اس کے ظلم سے نجات دے۔ حضرت موسٰیؑ کو انہوں نے پرورش کیا تھا اور ان کی مددگار تھیں۔ کہتے ہیں کہ فرعون کو جب حال کھلا تو ان کو چومیخا کر کے طرح طرح کی ایذائیں دیتا تھا۔ اس حالت میں اللہ کی طرف سے جنت کا محل ان کو دکھلایا جاتا۔ جس سے سب سختیاں آسان ہو جاتی تھیں۔ آخر فرعون نے ان کو سیاسۃً قتل کر دیا۔ اور جام شہادت نوش کر کے مالک حقیقی کے پاس پہنچ گئیں۔ حدیث صحیح میں نبی کریم ﷺ نے ان کے کامل ہونے کا اعلان فرمایا ہے۔ اور حضرت مریمؑ کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے۔ ہزاراں ہزار رحمتیں ہوں اس پاک روح پر۔
  • [3] حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیویوں کا انجام:یعنی حضرت نوحؑ اور حضرت لوطؑ کیسے نیک بندے، مگر دونوں کے گھر میں ان کی بیویاں منافق تھیں۔ بظاہر ان کے ساتھ تعلق تھا، لیکن دل سے کافروں کے شریک حال تھیں۔ پھر کیا ہوا؟ عام دوزخیوں کے ساتھ ان کو بھی اللہ نے دوزخ میں دھکیل دیا پیغمبروں کا رشتہ زوجیت ذرا بھی عذاب الہٰی سے نہ بچا سکا۔ ان کے برعکس فرعون کی بیوی حضرت آسیہؑ بنت مزاحم، پکی ایماندار، ولی کامل، اور اس کا شوہر خدا کا سب سے بڑا باغی۔ وہ نیک بیوی میاں کو خدا کے عذاب سے نہ چھڑا سکی۔ نہ میاں کی شرارت و بغاوت کے جرم میں بیوی کو کچھ آنچ پہنچی۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یعنی اپنا ایمان درست کرو۔ نہ خاوند بچا سکے نہ جورو۔ یہ (قانون عام طور پر) سب کو سنا دیا ہے۔ یہ وہم نہ کیا جائے کہ (معاذاللہ) حضرت ﷺ کی بیبیوں پر کہا۔ ان کے لئے تو وہ کہا ہے (جو سورۃ "نور" میں ہے) الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیۡنَ (النور۔۲۶) اور اگر بفرض محال ایسا وہم کیا جائے تو امراۃ فرعون کی مثال کس پر چسپاں کروگے"۔ لاحول ولاقوۃ الا باللہ۔