Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah At-Tahrim — Ayah 12

66:12
وَمَرۡيَمَ ٱبۡنَتَ عِمۡرَٰنَ ٱلَّتِيٓ أَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمَٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِۦ وَكَانَتۡ مِنَ ٱلۡقَٰنِتِينَ ١٢
اور مریم بیٹی عمران کی جس نے روکے رکھا اپنی شہوت کی جگہ کو1 پھر ہم نے پھونک دی اُس میں ایک اپنی طرف سے جان2 اور سچا جانا اپنے رب کی باتوں کو اور اُسکی کتابوں کو3 اور وہ تھی بندگی کرنے والوں میں4
Footnotes
  • [1] یعنی فرشتہ کے ذریعہ سے ایک روح پھونک دی۔ حضرت جبریلؑ نے گریبان میں پھونک ماری جس کا نتیجہ استقرار حمل ہوا، اور حضرت مسیحؑ پیدا ہوئے۔(تنبیہ) نفخح روح: نفخح کی نسبت اپنی طرف اس لئے کی کہ فاعل حقیقی اور مؤثر علی الاطلاق وہی ہے۔ آخر عورت کے رحم میں جو بچہ بنتا ہے اس کا بنانے والا اس کے سوا کون ہے۔ بعض محققین نے یہاں "فرج" کے معنی چاک گریبان کے لئے ہیں۔ اس وقت اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا کے معنی یہ ہونگے کہ کسی کا ہاتھ اپنے گریبان تک نہیں پہنچنے دیا۔اور یہ نہایت بلیغ کنایہ ان کی عصمت و عفت سے ہوگا۔ جیسے ہمارے محاورات میں کہتے ہیں کہ فلاں عورت بہت پاکدامن ہے اور عرب میں کہا جاتا ہے "نقی الحبیب طاہر الذیل" اس سے عفیف النفس ہونا مراد ہوتا ہے۔ کپڑے کا دامن مراد نہیں ہوتا۔ اس تقدیر پر فَنَفَخْنَافِیْہِ میں ضمیر لفظ "فرج" کے لغوی معنی کے اعتبار سے راجع ہوگی۔ واللہ اعلم بالصواب۔
  • [2] حضرت مریم علیہ السلام:یعنی حلال و حرام سب سے محفوظ رکھا۔
  • [3] یعنی رب کی باتیں وہ ہوں گی جو فرشتوں کی زبانی سورۃ آل عمران میں بیان ہوئی ہیں۔ وَاِذْ قَالَتِ الْمَلَائِکَۃُ یَا مَریَمُ اِنَّ اللہَ اصْطَفَاکِ وَطَھَّرَکِ الخ۔ اور کتابوں سے عام کتب وسماویہ مراد لی جائیں۔ تخصیص کی ضرورت نہیں۔
  • [4] یعنی کامل مردوں کی طرح بندگی و طاعت پر ثابت قدم تھی۔ یا یوں کہو کہ قانتین کے خاندان سے تھی۔ تم سورہ التحریم وللہ الحمد والمنۃ وبہ التوفیق والعصمۃ۔