Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Qalam — Ayah 51

68:51
وَإِن يَكَادُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَيُزۡلِقُونَكَ بِأَبۡصَٰرِهِمۡ لَمَّا سَمِعُواْ ٱلذِّكۡرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُۥ لَمَجۡنُونٞ ٥١
اور منکر تو لگ ہی رہے ہیں کہ پھسلا دیں تجھ کو اپنی نگاہوں سے جب سنتے ہیں قرآن اور کہتے ہیں وہ تو باؤلا ہے1
Footnotes
  • [1] قرآن سن کر کفّار کا غیظ و غضب:یعنی قرآن سن کر غیظ و غضب میں بھر جاتے ہیں اور اس قدر تیز نظروں سے تیری طرف گھورتے ہیں، جانے تجھ کو اپنی جگہ سے ہٹا دینگے۔ زبان سے بھی آوازےکستے ہیں کہ یہ شخص تو مجنون ہو گیا ہے۔ اس کی کوئی بات قابل التفات نہیں ہے۔ مقصدیہ ہےکہ اسطرح آپ کوگھبرا کر مقام صبرو استقلال سے ڈگمگا دیں۔ مگر آپ برابر اپنے مسلک پر جمے رہیئے۔ اور تنگدل ہو کر کسی معاملہ میں گھبراہٹ یاجلدی یا مداہنت اختیار نہ کیجئیے۔ (تنبیہ) نظر لگنا: بعض نے لَیُزۡ لِقُوۡنَکَ بِاَبۡصَارِہِمۡ سے یہ مطلب لیا ہےکہ کفار نے بعض لوگوں کو جو نظر لگانے میں مشہور تھےاس پر آمادہ کیا تھا کہ وہ آپ کو نظر لگائیں۔ چنانچہ جس وقت حضور ﷺ قرآن تلاوت فرما رہے تھے، ان میں سے ایک آیا اور پوری ہمت سے نظر لگانے کی کوشش کی۔ آپ نے "لاحول ولاقوۃ الا باللہ" پڑھا اور وہ ناکام و نامراد واپس چلاگیا۔ باقی نظر لگنے یا لگانے کے مسئلہ پر بحث کرنے کا یہ موقع نہیں۔ اور آج کل جبکہ "مسمریزم" ایک باقاعدہ فن بن چکا ہے، اس میں مزید رد وکد کرنا بیکار سا معلوم ہوتا ہے۔