Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Haqqah — Ayah 40

69:40
إِنَّهُۥ لَقَوۡلُ رَسُولٖ كَرِيمٖ ٤٠
کہ کہا ہے ایک پیغام لانے والے سردار کا1
Footnotes
  • [1] یہ بیان سچّا اور حق ہے:یعنی جو کچھ جنت ودوزخ وغیرہ کا بیان ہوا، یہ کوئی شاعری نہیں نہ کاہنوں کی اٹکل پچو باتیں ہیں، بلکہ یہ قرآن ہے اللہ کا کلام ، جس کو آسمان سے ایک بزرگ فرشتہ لیکر ایک بزرگ ترین پیغمبر پر اترا۔ جو آسمان سے لایا وہ، اور جس نے زمین والوں کو پہنچایا، دونوں رسول کریم ہیں ایک کاکریم ہونا تو تم آنکھوں سے دیکھتے ہو۔ اور دوسرے کی کرامت و بزرگی پہلے کریم کے بیان سے ثابت ہے۔ (تنبیہ) علم وحی کی فضیلت: عالم میں دوقسم کی چیزیں ہیں۔ ایک جنکو آدمی آنکھوں سے دیکھتا ہے دوسری جو آنکھوں سے نظر نہیں آتی، عقل وغیرہ کے ذریعہ سے ان کے تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ مثلًا ہم کتنا ہی آنکھیں پھاڑ کر زمین کو دیکھیں ، وہ چلتی ہوئی نظر نہ آئیگی لیکن حکماء کے دلائل و براہین سے عاجز ہو کر ہم اپنی آنکھ غلطی پر سمجھتے ہیں اور اپنی عقل کے یا دوسرے عقلاء کی عقل کے ذریعہ سے حو اس کی ان غلطیوں کی تصحیح و اصلاح کر لیتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ ہم میں سےکسی کی عقل بھی غلطیوں اور کوتاہیوں سے محفوظ نہیں۔ آخراس کی غلطیوں کی اصلاح اور کوتاہیوں کی تلافی کس سے ہو بس تمام عالم میں ایک وحی الہٰی کی قوت ہے جو خود غلطی سے محفوظ و معصوم رہتے ہوئے تمام عقلی قوتوں کی اصلاح و تکمیل کر سکتی ہے جس طرح حواس جہاں پہنچ کرعاجز ہوتے ہیں وہاں عقل کام دیتی ہے، ایسے ہی جس میدان میں عقل مجرد کام نہیں دیتی یا ٹھوکریں کھاتی ہے اس جگہ وحی الہٰی اس کی دستگیری کر کے ان بلند حقائق سے روشناس کرتی ہے۔ شاید اسی لئے یہاں بِمَا تُبْصِرُوْنَ۔ وَمَالَا تُبْصِرُوْنَ کی قسم کھائی۔یعنی جو حقائق جنت و دوزخ وغیرہ کی پہلی آیات میں بیان ہوئی ہیں، اگر دائرہ محسوسات سے بلند تر ہونے کی وجہ سے تمہاری سمجھ میں نہ آئیں تو اشیاء میں مبصرات وغیر مبصرات یا بالفاظ دیگر محسوسات وغیر محسوسات کی تقسیم سے سمجھ لو کہ یہ رسول کریم کاکلام ہے جو بذریعہ وحی الہٰی دائرۃ حس و عقل سے بالاتر حقائق کی خبر دیتا ہے۔ جب ہم بہت سی غیر محسوس بلکہ مخالف حس چیزوں کو اپنی عقل یا دوسروں کی تقلید سے مان لیتے ہیں توبعض بہت اونچی چیزوں کو رسول کریم کے کہنے سے ماننے میں کیا اشکال ہے۔