اور نہیں ہے یہ کہا کسی شاعر کا تم تھوڑا یقین کرتے ہو1
Footnotes
[1]قرآن شاعری نہیں ہے:یعنی قرآن کے کلام اللہ ہونے کی نسبت کبھی کبھی یقین کی کچھ جھلک تمہارے دلوں میں آتی ہے، مگر بہت کم جو نجات کے لئے کافی نہیں۔ آخر اس کو شاعری وغیرہ کہہ کر اُڑا دیتے ہو۔ کیا واقعی انصاف سے کہہ سکتے ہو کہ یہ کسی شاعر کا کلام ہوسکتا ہے اور شعر کی قسم سے ہے۔ شعر میں وزن و بحر وغیرہ ہونا لازم ہے۔ قرآن میں اس کا پتہ نہیں۔ شاعروں کا کلام اکثر بے اصل ہوتا ہے اور اس کے اکثر مضامین محض وہمی اور خیالی ہوتے ہیں، حالانکہ قرآن کریم میں تمام تر حقائق ثابتہ اور اصول محکمہ کو قطعی دلیلوں اور یقینی حجتوں کےساتھ بیان کیاگیا ہے۔