Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Nuh — Ayah 24

71:24
وَقَدۡ أَضَلُّواْ كَثِيرٗاۖ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا ضَلَٰلٗا ٢٤
اور بہکا دیا بہتوں کو اور تو نہ زیادہ کرنا (کریو) بے انصافوں کو مگر بھٹکنا1
Footnotes
  • [1] حضرت نوح علیہ السلام کی بددعا کی وجہہ:حضرت شاہ عبدالقادرؒ لکھتے ہیں "یعنی (بھٹکتے رہیں) کوئی تدبیر (سیدھی) بن نہ پڑے"۔ اورحضرت شاہ عبدالعزیزؒ لکھتے ہیں کہ "استدراج کے طور پر بھی انکو اپنی معرفت سےآشنانہ کر"۔ اور عامہ مفسّرین نےظاہری معنی لئے ہیں۔ یعنی اے اللہ ان ظالموں کی گمراہی کو اور بڑھا دیجئے۔ تا جلد شقاوت کا پیمانہ لبریز ہو کر عذاب الہٰی کے مورد بنیں مفسّرین لکھتے ہیں کہ یہ بددُعا انکی ہدایت سے بکلی مایوس ہوکر کی۔خواہ مایوسی ہزارسالہ تجربہ کی بنا پر ہویا حق تعالیٰ کایہ ارشاد سن چکے ہونگے۔ اَنَّہٗ لَنۡ یُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِکَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ (ھود۔۳۷) بہرحال ایسی مایوسی کی حالت میں تنگدل اور غضبناک ہوکر یہ دعا کرنا کچھ مستبعد نہیں۔ حضرت شاہ عبدالعزیزؒ لکھتے ہیں کہ جب کسی شخص یا جماعت کےراہ راست پرآنےکی طرف سے قطعًا مایوسی ہوجائے اور نبی ان کی استعداد کو پوری طرح جانچ کرسمجھ لےکہ خیرکے نفوذکی ان میں مطلق گنجائش نہیں۔ بلکہ انکا وجود ایک عضو فاسد کی طرح ہےجو یقینًا باقی جسم کو بھی فاسداور مسموم کر ڈالیگا۔ تو اس وقت انکےکاٹ ڈالنے اور صفحہ ہستی سے محو کر دینے کے سوا دوسرا کیاعلاج ہے۔اگر قتال کاحکم ہو تو قتال کے ذریعہ سے ان کو فنا کیا جائے یا قوت توڑ کر ان کےاثربد کو متعدی نہ ہونے دیا جائے۔ ورنہ آخری صورت یہ ہے کہ اللہ سے دعاء کی جائے کہ وہ ان کے وجود سے دنیا کو پاک کرے اور ان کے زہریلے جراثیم سے دوسروں کو محفوظ رکھے۔ کما قال اِنَّکَ اِنۡ تَذَرۡہُمۡ یُضِلُّوۡا عِبَادَکَ بہر حال نوحؑ کی دعا اور اسی طرح موسیٰ علیہما السّلام کی دعا جو سورۃ "یونس" میں گذری اسی قبیل سے تھی۔ واللہ اعلم۔