Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Muzzammil — Ayah 1

73:1
يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡمُزَّمِّلُ ١
اے کپڑے میں لپٹنے والے1
Footnotes
  • [1] اس سورت کے نزول کا پس منظر:یعنی یہ سورت ابتدائی سورتوں میں سے ہے جو مکہ میں نازل ہوئیں۔ روایات صحیحہ میں ہے کہ شروع میں جب وحی کی دہشت اور ثقل سے آپ ﷺ کا بدن کانپنے لگا تو آپ ﷺ نے گھر والوں سے فرمایا زمّلونی زمّلونی (مجھے کپڑا اڑھاؤ، کپڑا اڑھاؤ) چنانچہ کپڑا اڑھا دیا گیا۔ اللہ تعالٰی نے اس سورت میں اور اس سے اگلی سورت میں آپ ﷺ کو وہی نام لے کر پکارا۔ اور بعض روایات میں ہے کہ قریش نے "دارالندہ" میں جمع ہو کر آپ ﷺ کے متعلق مشورہ کیا کہ آپ ﷺ کی حالت کے مناسب کوئی لقب تجویز کرنا چاہیئے۔ کسی نے "کاہن" کہا کسی نے "جادوگر" کسی نے "مجنون" مگر اتفاق رائے کسی چیز پر نہ ہوا۔ اخیر میں "ساحر" کی طرف رحجان تھا۔ آپ ﷺ کو خبر ہوئی تو رنجیدہ اور غمگین ہوئے اور کپڑوں میں لپٹ گئے۔ جیسا کہ اکثر سوچ اور غم میں مغموم آدمی اس طرح کر لیتا ہے۔ اس پر حق تعالیٰ نے تأنیس وملاطفت کے لئے اس عنوان سے خطاب فرمایا جیسے آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو ایک مرتبہ "قم ابا تراب" فرمایا تھا جبکہ وہ گھر سے رنجیدہ ہو کر چلے گئے اور مسجد میں زمین پر لیٹے ہوئے تھے۔ حضرت شاہ عبدالعزیزؒ لکھتے ہیں کہ "اس سورت میں خرقہ پوشی کے لوازم و شروط بیان ہوئی ہیں"۔ گویا یہ سورت اس شخص کی سورت ہے جو درویشوں کا خرقہ پہنے اور اپنے تئیں اس رنگ میں رنگے۔ لغت عرب میں "مزّمل" اس شخص کو کہتے ہیں جو بڑے کشادہ کپڑے کو اپنے اوپر لپیٹ لے۔ اور آنحضرت ﷺ کا معمول ایسا تھا کہ جب نماز تہجّد اور قرآن شریف کی تلاوت کے لئے رات کو اٹھتے تھے تو ایک کمبل دراز اوڑھ لیتے تھے۔ تا سردی سے بدن محفوظ رہے اور وضو ونماز کی حرکات میں کسی طرح کا حرج واقع نہ ہو۔ نیز اس عنوان کے اختیار کرنے میں ان لوگوں کو ہشیار کرنا ہے جو کپڑوں میں لپٹے ہوئے رات کو آرام کر رہے ہوں کہ رات کا ایک معتدبہ حصہ اللہ کی عبادت میں گذاریں۔