Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah 'Abasa — Ayah 1

80:1
عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ ١
1 تیوری چڑھائی اور منہ موڑھا
Footnotes
  • [1] سورۃ عبس کے نزول کا واقعہ:آنحضرت ﷺ بعض سردارانِ قریش کو مذہب اسلام کے متعلق کچھ سمجھا رہے تھے۔ اتنے میں ایک نابینا مسلمان (جن کو ابن اُم مکتومؓ کہتے ہیں) حاضر خدمت ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ فلاں آیت کیونکر ہے یارسول اللہ مجھے اُس میں سے کچھ سکھائیے جو اللہ نے آپ کو سکھلایا ہے۔ حضرت کو ان کا بے وقت کا پوچھنا گراں گزرا۔ آپ کو خیال ہوا ہو گا کہ میں ایک بڑے اہم کام میں مشغول ہوں قریش کے یہ بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے۔ حضرت ابن اُم مکتومؓ: ابن اُم مکتومؓ بہر حال مسلملان ہے اس کو سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے کے ہزار مواقع حاصل ہیں، اس کو دکھائی نہیں دیتا کہ میرے پاس ایسے بااثر اور بارسوخ لوگ بیٹھے ہیں جن کو اگر ہدایت ہو جائے تو ہزاروں اشخاص ہدایت پر آسکتے ہیں، میں ان کو سمجھا رہا ہوں، یہ اپنی کہتا چلا جاتا ہے۔ اتنا بھی نہیں سمجھتا کہ اگر ان لوگوں کی طرف سے ہٹ کر گوشہ التفات اس کی طرف کروں گا تو ان لوگوں پر کس قدر شاق ہو گا۔ شاید پھر وہ میری بات سننا بھی پسند نہ کریں۔ غرض آپ منقبض ہوئے اور انقباض کے آثار چہرے پر ظاہر ہونے لگے۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ روایات میں ہے کہ اس کے بعد جب وہ نابینا آپ کی خدمت میں آتے، آپ بہت تعظیم و تکریم سے پیش آتے اور فرماتے مَرْحَبًا بِمَنْ عَاتبنی فیْہ رَبِّی ۔