Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah At-Takwir — Ayah 21

81:21
مُّطَاعٖ ثَمَّ أَمِينٖ ٢١
سب کا مانا ہوا وہاں کا معتبر1
Footnotes
  • [1] حضرت جبریل علیہ السلام کی چند صفات:یہ حضرت جبریلؑ کی صفات بیان ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم جو اللہ کے پاس سے ہم تک پہنچا اس میں دو واسطے ہیں۔ ایک وحی لانے والا فرشتہ (جبریلؑ) اور دوسرا پیغمبر عربی ﷺ دونوں کی صفات وہ ہیں جنکے معلوم ہونے کے بعد کسی طرح کا شک و شبہ قرآن کے صادق اور منزل من اللہ ہونے میں نہیں رہتا۔ کسی روایت کی صحت تسلیم کرنے کے لئےاعلیٰ سے اعلیٰ راوی وہ ہوتا ہے جو اعلیٰ درجہ کا ثقہ، عادل، ضابط، حافظ اور امانت دار ہو۔ جس سے روایت کرے اس کے پاس عزت و حرمت کے ساتھ رہتا ہو بڑے بڑے معتبرثقات اس کی امانت وغیرہ پر اعتماد کلی رکھتے ہوں۔ اور اسی لئے اس کی بات بے چون وچرا مانتے ہوں۔ یہ تمام صفات حضرت جبریلؑ میں موجود ہیں وہ کریم (عزت والے) ہیں جن کے لئے اعلیٰ نہایت متقی اور پاکباز ہونا لازم ہے۔ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ (الحجرات۔۱۳) وفی الحدیث الکرم التقوی بڑی قوت والے ہیں جس میں اشارہ ہے کہ حفظ و ضبط اور بیان کی قوت بھی کامل ہے۔ اللہ کے ہاں ان کا بڑا درجہ ہے سب فرشتوں سے زیادہ بارگاہ ربوبیت میں قرب اور رسائی حاصل ہے آسمانوں کے فرشتے ان کی بات مانتے اور ان کا حکم تسلیم کرتے ہیں کیونکہ ان کے امین اور متعبر ہونے میں کسی کو شبہ نہیں۔ یہ تو رسول ملکی کا حال تھا۔ آگے رسول بشری کا حال سُن لیجیے۔